حسبان میڈیا - Hasban Media Logo
تعلیم کا سوتیلا سلوک ۔قبائلی بچے کس سے فریاد کریں ؟ Home / پاکستان /

تعلیم کا سوتیلا سلوک ۔قبائلی بچے کس سے فریاد کریں ؟

انورزادہ گلیار

ایڈیٹر - 19/04/2025
تعلیم کا سوتیلا سلوک ۔قبائلی بچے کس سے فریاد کریں ؟

صبح کے وقت جب پاکستان کے بڑے شہروں میں بچے رنگ برنگے یونیفارم پہن کر، صاف سڑکوں پر قدم رکھتے ہیں، ان کے ہاتھوں میں صاف ستھرے بستے ہوتے ہیں، اور ان کی انگلیاں والدین یا اسکول وین کے ڈرائیور کے ہاتھ میں ہوتی ہیں—تو ایک اور پاکستان بھی جاگتا ہے۔ ایک ایسا پاکستان جو پہاڑوں میں چھپا ہوا ہے، جو وسائل سے محروم ہے، جو ریاست کی توجہ سے کوسوں دور ہے۔ یہ پاکستان باجوڑ ہے۔ یہاں کے بچے بھی صبح جاگتے ہیں، بستے اٹھاتے ہیں، لیکن ان کے پیروں میں جوتے نہیں، ان کے اسکولوں میں استاد نہیں، اور ان کے خوابوں میں امکانات نہیں۔
لکیانو تحصیل سالارزئی کا ایک چھوٹا سا علاقہ ہے، مگر اس کی محرومیاں بہت بڑی ہیں۔ یہاں کا گورنمنٹ پرائمری اسکول ایک دکھ بھری داستان ہے۔ تقریباً 400 طلبہ روزانہ اس اسکول میں تعلیم حاصل کرنے آتے ہیں، لیکن صرف ایک استاد ان سب کو پڑھانے پر مجبور ہے۔ وہ بھی انسان ہے، فرشتہ نہیں۔ ایک وقت میں پانچ کلاسز کو ایک چھت کے نیچے سنبھالنا کسی معجزے سے کم نہیں۔
اور یہ صرف لکیانو کی کہانی نہیں۔ تھوڑا آگے جائیں تو چارمنگ ،چمرکنڈ اور دیگر دور دراز علاقوں میں بھی انتہائی بدتر صورتحال ہے۔ جبکہ تحصیل خار  ملاکلی کی بچیاں بھی اسی المیے کا شکار ہیں۔ یہاں کے اسکول میں اسٹاف نہ ہونے کے برابر ہے۔ اسکول انتظامیہ مزید بچیوں کو داخلہ دینے سے قاصر ہے۔ ان کا مؤقف ہے: "ہم پہلے سے موجود طالبات کو بھی پورا وقت نہیں دے پاتے، تو مزید بچوں کو کیسے پڑھائیں؟" کیا تعلیم کے دروازے صرف اس لیے بند کیے جا سکتے ہیں کہ ریاست نے اپنے فرائض ادا نہیں کیے؟
ہم اکثر کہتے ہیں کہ تعلیم ہر بچے کا بنیادی حق ہے۔ آئین پاکستان بھی یہی وعدہ کرتا ہے۔ لیکن اگر ہم باجوڑ، مہمند ،کرم، اور  وزیرستان جیسے علاقوں میں تعلیم کی موجودہ حالت پر نظر ڈالیں تو ایسا لگتا ہے جیسے یہ وعدے صرف کتابوں میں محفوظ ہیں، زمین پر نہیں۔
سکولوں کی عمارتیں شکستہ حال ہیں۔ کہیں چھتیں ٹپک رہی ہیں، کہیں بیت الخلا کا نام و نشان نہیں، کہیں پانی نہیں، کہیں چاردیواری ہی غائب ہے۔ اور ان سب سے بڑھ کر استاد کی کمی ایسا زخم ہے جو روزانہ ان بچوں کے خوابوں کو چیر کر رکھ دیتا ہے۔ جو قوم اپنے معماروں کو تعلیم سے محروم رکھتی ہے، وہ کبھی پائیدار ترقی کا دعویٰ نہیں کر سکتی۔
حال ہی میں لکیانو کے بچوں نے پرامن احتجاج بھی کیا۔ پلے کارڈز اٹھائے، "ہمیں استاد دو، ہمیں تعلیم دو" کے نعرے لگائے۔ مگر ان ننھے مظاہرین کی آواز کسی بڑے دفتر کے اے سی روم میں بند کانوں تک نہ پہنچ سکی۔ ان کی فریادیں کسی فائل کے نیچے دب گئیں، اور وہی خاموشی ایک بار پھر ان پر مسلط کر دی گئی جس کے سائے میں وہ برسوں سے سانس لے رہے ہیں۔
یہ کیسا انصاف ہے کہ اسلام آباد میں ہر اسکول میں سات سات اساتذہ ہوں، لاہور کے ہر بچے کو لیپ ٹاپ ملے، اور باجوڑ میں چار سو بچوں کے لیے ایک استاد بھی غنیمت سمجھی جائے؟ کیا قبائلی بچے پاکستانی نہیں؟ کیا ان کے خواب کسی کم درجے کے ہیں؟ کیا ان کی صلاحیتیں کم ہیں؟ اگر نہیں، تو پھر یہ امتیاز کیوں؟
ریاست کو فیصلہ کرنا ہوگا—کیا وہ اپنے پسماندہ علاقوں کو بھی ساتھ لے کر چلنا چاہتی ہے، یا ترقی کا ہار صرف شہروں کے گلے میں پہنایا جائے گا؟ ہمیں تعلیم کا بجٹ صرف دعووں اور اعلانات کی حد تک نہیں، بلکہ زمین پر نظر آنا چاہیے۔
ضرورت اس امر کی ہے کہ باجوڑ اور دیگر قبائلی اضلاع میں ایمرجنسی بنیادوں پر تعلیمی اصلاحات کی جائیں۔ اسکولوں کی حالت بہتر بنائی جائے، اساتذہ کی فوری بھرتی کی جائے، اور بچوں کے لیے سازگار ماحول مہیا کیا جائے تاکہ وہ بھی کسی دن ڈاکٹر، انجینئر، یا دیگر کوئی بڑے آفیسر بننے کا خواب دیکھ سکیں — اور اسے پورا بھی کر سکیں۔
اگر ہم نے یہ نہ کیا، تو آنے والے کل کا مؤرخ ہمیں صرف ایک جملے میں یاد کرے گا: "یہ وہ قوم تھی، جس نے اپنے بچوں کے ہاتھ میں کتاب دینے کی بجائے، ان کے خواب چھین لیے تھے