پشاور: خیبر پختونخوا کی صوبائی اسمبلی میں ایک اہم اور متنازعہ قانونی مسودہ تیار کر لیا گیا ہے جس کے تحت اب اسمبلی تحلیل ہونے کے بعد بھی اسپیکر نہ صرف اپنے عہدے پر برقرار رہیں گے بلکہ تمام سرکاری مراعات سے بھی لطف اندوز ہوتے رہیں گے۔ اس نئے قانون کے ذریعے 1975 کے پرانے قانون کو ختم کرنے کی تجویز دی گئی ہے، جسے KPK Assembly Speaker Privileges 2026 کے حوالے سے ایک بڑی تبدیلی قرار دیا جا رہا ہے۔
نئے قانون کی اہم اور متنازعہ شقیں:
مجوزہ قانون کے مطابق اسپیکر اور ڈپٹی اسپیکر کو غیر معمولی مالی اور قانونی تحفظ فراہم کیا جائے گا:
مالی اختیارات اور فنانس کمیٹی
ذرائع کا کہنا ہے کہ یہ مسودہ جلد Finance Committee کے سپرد کیا جائے گا جو اسپیکر اور ڈپٹی اسپیکر کی تنخواہوں، الاؤنسز اور دیگر مراعات کے تعین کا مکمل اختیار رکھے گی۔ اس اقدام سے عوامی حلقوں میں شدید ردِعمل کا امکان ہے کیونکہ اس سے سرکاری خزانے پر اضافی بوجھ پڑے گا۔