اسلام آباد: وفاقی تحقیقاتی ادارے (ایف آئی اے) کا انسانی اسمگلنگ کے خلاف بڑا کریک ڈاؤن، سال 2025 میں ہزاروں مشتبہ مسافروں کو بیرون ملک سفر سے روک دیا گیا۔
وفاقی تحقیقاتی ادارے (ایف آئی اے) کے ایڈیشنل ڈائریکٹر جنرل امیگریشن نعمان صدیقی نے اسلام آباد میں سینئر صحافیوں سے خصوصی گفتگو کرتے ہوئے سنسنی خیز انکشافات کیے ہیں۔ انہوں نے بتایا کہ سال 2025 کے دوران مجموعی طور پر 39 ہزار 786 مسافروں کو ملکی ہوائی اڈوں پر آف لوڈ کیا گیا۔ ایڈیشنل ڈی جی کے مطابق یہ کارروائیاں کسی ذاتی پسند یا ناپسند کی بنیاد پر نہیں بلکہ ایک باقاعدہ قانونی، انٹیلی جنس اور خطرات کے تجزیے پر مبنی جدید نظام (Risk Analysis System) کے تحت عمل میں لائی گئی ہیں تاکہ غیر قانونی ہجرت اور انسانی اسمگلنگ کے نیٹ ورک کو جڑ سے اکھاڑا جا سکے۔
نعمان صدیقی نے عوامی سطح پر آف لوڈنگ کے عمل پر ہونے والی تنقید کا جواب دیتے ہوئے واضح کیا کہ یہ اقدام شہریوں کو ہراساں کرنے کے لیے نہیں بلکہ ایک اہم احتیاطی تدبیر کے طور پر کیا جاتا ہے۔ انہوں نے زور دیا کہ اس سخت مانیٹرنگ کا بنیادی مقصد معصوم شہریوں کی جانوں کا تحفظ، بیرون ملک ان کے ممکنہ استحصال کا سداد اور بین الاقوامی برادری میں پاکستان کی ساکھ کو محفوظ بنانا ہے۔ ایف آئی اے حکام کا کہنا ہے کہ آنے والے دنوں میں امیگریشن کے نظام کو مزید سخت اور شفاف بنایا جائے گا تاکہ غیر قانونی طریقے سے سرحدیں عبور کرنے کے رجحان کو مکمل طور پر ختم کیا جا سکے۔