لاہور: پاکستان کے معروف صحافی اور اینکر پرسن سید اقرار الحسن نے انکشاف کیا ہے کہ اے آر وائی نیوز (ARY News) سے علیحدگی کے بعد اب انہیں اپنے گھر کا کچن چلانے کے لیے دوبارہ کسی ملازمت کی تلاش کرنی پڑے گی۔
تفصیلات کے مطابق، اپنے حالیہ انٹرویو اور سوشل میڈیا بیانات میں 'سرِعام' پروگرام کے میزبان اقرار الحسن نے بتایا کہ وہ اے آر وائی نیوز سے ماہانہ 5 ملین (50 لاکھ) روپے سے زائد تنخواہ وصول کر رہے تھے۔ تاہم، انہوں نے ملکی سیاست میں باقاعدہ قدم رکھنے اور اپنی نئی سیاسی جماعت 'عوام راج پارٹی' کو مکمل وقت دینے کے لیے ادارے سے اپنے 21 سالہ طویل پیشہ ورانہ تعلق کو ختم کرتے ہوئے استعفیٰ دیا۔ اینکر کا کہنا تھا کہ اتنی بڑی ملازمت اور مراعات چھوڑنے کے بعد اب انہیں ذاتی سطح پر شدید مالی غیر یقینی اور کچن چلانے کے حوالے سے چیلنجز کا سامنا ہے۔
سوشل میڈیا اور عوامی حلقوں میں ان کے اس بیان کو ملا جلا ردِعمل مل رہا ہے۔ جہاں ان کے حامی اسے عوامی خدمت کے لیے ایک بڑی ذاتی اور مالی قربانی قرار دے رہے ہیں، وہیں ناقدین ان کے ماضی کے بیانات، ذاتی اثاثوں اور کاروبار کا حوالہ دے کر اس پر تنقید کر رہے ہیں۔ واضح رہے کہ اقرار الحسن نے واضح کیا ہے کہ نوکری کے ساتھ سیاسی جماعت چلانا ممکن نہیں تھا، اس لیے انہوں نے اپنے کیریئر کے بجائے ملک کے نوجوانوں اور 'عوام راج تحریک' کے مستقبل کو ترجیح دی۔