اسلام آباد: وفاقی دارالحکومت سے موصولہ اطلاعات کے مطابق، وزیراعظم محمد شہباز شریف پاک چین دوطرفہ تعلقات کو مزید مستحکم کرنے اور معاشی تعاون کی نئی راہیں تلاش کرنے کے لیے 4 روزہ انتہائی اہم سرکاری دورے پر چین روانہ ہو گئے ہیں۔
ترجمان دفترِ خارجہ کی جانب سے جاری کردہ ہائی پروفائل اعلامیے کے مطابق، وزیراعظم کے اس تزویراتی دورے کا مقصد دونوں برادر ممالک کے مابین سیاسی روابط، سیکیورٹی تعاون اور تجارتی شراکت داری کو نئی بلندیوں پر پہنچانا ہے۔ وزیراعظم اپنے 4 روزہ دورے کے پہلے مرحلے میں چینی صنعتی و کاروباری مرکز 'ہانگژو' پہنچیں گے، جہاں وہ ژجیانگ صوبے کے کمیونسٹ پارٹی سیکرٹری سمیت مقتدر کاروباری شخصیات اور سرمایہ کاروں سے ملاقاتیں کریں گے۔ اس دورے میں وفاقی کابینہ کا ایک اعلیٰ سطحی وفد بھی وزیراعظم کے ہمراہ ہے، جس میں نائب وزیراعظم و وزیر خارجہ اسحاق ڈار، وزیر منصوبہ بندی احسن اقبال، وفاقی وزیر اطلاعات عطا اللہ تارڑ، وزیر آئی ٹی شزہ فاطمہ اور معاون خصوصی طارق فاطمی شامل ہیں۔
سفارتی ذرائع کے مطابق، بیجنگ اور ہانگژو میں ہونے والی ان اعلیٰ سطحی ملاقاتوں کے دوران سی پیک (CPEC) کے دوسرے مرحلے کے منصوبوں، آئی ٹی سیکٹر میں مشترکہ سرمایہ کاری اور زراعت کی جدید خطوط پر استوار سازی جیسے اہم امور ایجنڈے کا حصہ ہوں گے۔ مزید برآں، موجودہ عالمی منظرنامے کے تناظر میں دونوں ممالک کی قیادت کے مابین مشرقِ وسطیٰ کی کشیدہ صورتحال اور علاقائی سلامتی پر بھی تفصیلی تبادلہ خیال متوقع ہے۔ ترجمان دفترِ خارجہ نے واضح کیا ہے کہ چین نے مشرقِ وسطیٰ کے تنازعات کے پرامن حل کے لیے پاکستان کی اصولی سفارتی کوششوں کی بھرپور حمایت کا اعادہ کیا ہے، جو دونوں ممالک کے عالمی امور پر یکساں وژن کی عکاسی کرتا ہے۔