لنڈی کوتل: پاک افغان طورخم بارڈر کی بندش کے خلاف سیاسی و سماجی رہنماؤں اور تاجروں کا شدید احتجاج۔
بازار باچا خان چوک میں مختلف سیاسی جماعتوں کے قائدین، کسٹم کلیئرنگ ایجنٹس، ٹرانسپورٹرز اور بلدیاتی نمائندوں نے مشترکہ پریس کانفرنس کرتے ہوئے کہا کہ بارڈر کی مسلسل بندش سے ہزاروں لوگ بے روزگار اور کسمپرسی کی زندگی گزارنے پر مجبور ہیں۔ مقررین نے مطالبہ کیا کہ تجارت کی بحالی کے لیے افغانستان کے ساتھ تمام سرحدیں فوری کھولی جائیں۔ انہوں نے تشویش کا اظہار کیا کہ افغانستان میں بڑی تعداد میں پاکستانی ڈرائیورز اور گاڑیاں پھنس چکی ہیں جنہیں فوری واپس لایا جائے، بصورتِ دیگر احتجاج کا دائرہ وسیع کیا جائے گا۔
مقررین نے کہا کہ بارڈر کی بندش سے نہ صرف کاروباری سرگرمیاں متاثر ہو رہی ہیں بلکہ دونوں ممالک کے عوام کو بھی شدید مشکلات کا سامنا کرنا پڑ رہا ہے۔ انہوں نے حکومت سے مطالبہ کیا کہ صورتحال کا فوری نوٹس لے کر بارڈر کھولنے کیلئے ہنگامی اقدامات کیے جائیں۔
پریس کانفرنس کے شرکاء نے خبردار کیا کہ اگر طورخم بارڈر جلد بحال نہ کیا گیا تو احتجاج کا دائرہ وسیع کیا جا سکتا ہے۔