خیبر پختونخوا حکومت کا پولیو کے مکمل خاتمے کے لیے پختہ عزم، 18 مئی سے 23 اضلاع میں چار روزہ انسدادِ پولیو مہم شروع کرنے کی منظوری
پشاور (رپورٹ: حسبان میڈیا): چیف سیکرٹری خیبر پختونخوا شہاب علی شاہ نے صوبے سے پولیو وائرس کے مستقل خاتمے کے لیے صوبائی حکومت کے پختہ عزم کا اعادہ کرتے ہوئے کہا ہے کہ بچوں کو اس موذی مرض سے محفوظ رکھنے کے لیے باقاعدگی سے انسدادِ پولیو مہمات کا انعقاد کیا جا رہا ہے۔ ان خیالات کا اظہار انہوں نے صوبائی ٹاسک فورس برائے انسدادِ پولیو کے ایک اہم اجلاس کی صدارت کرتے ہوئے کیا، جس میں رواں ماہ صوبے کے 23 مختلف اضلاع میں شروع ہونے والی چار روزہ مہم کی تیاریوں کا تفصیلی جائزہ لیا گیا۔
چیف سیکرٹری نے والدین پر زور دیا کہ چونکہ پولیو ویکسین بچوں میں مستقل معذوری کا سبب بننے والی اس بیماری سے مکمل تحفظ فراہم کر کے ان کی صحت مند زندگی کی ضمانت دیتی ہے، اس لیے وہ اپنے بچوں کو پولیو سے بچاؤ کے قطرے ضرور پلائیں اور فرنٹ لائن ہیلتھ ورکرز کے ساتھ مکمل تعاون کریں۔ انہوں نے مائیکرو پلاننگ، منظم مانیٹرنگ اور مہم کے معیار پر خصوصی توجہ دینے کی ہدایت کی اور کہا کہ جن علاقوں میں نئے کیسز سامنے آئے ہیں وہاں خامیوں کو فوری دور کیا جائے۔ اس موقع پر مہم کو مزید مؤثر اور نتیجہ خیز بنانے کے لیے ویکسی نیٹرز کو جدید موبائل فونز فراہم کرنے کا بھی فیصلہ کیا گیا۔
اجلاس میں بریفنگ کے دوران بتایا گیا کہ یہ انسدادِ پولیو مہم 18 مئی سے شروع ہو گی جس میں ڈیرہ اسماعیل خان ڈویژن کے تمام اضلاع، ایبٹ آباد، تورغر، کوہستان اپر، کوہستان لوئر، کولائی پالس، باجوڑ، دیر لوئر، مہمند، مردان، نوشہرہ، پشاور، خیبر، کوہاٹ، ہنگو، کرم اور ضلع کرک شامل ہیں۔ اس مہم کے دوران مجموعی طور پر 46 لاکھ سے زائد بچوں کو پولیو سے بچاؤ کے قطرے پلائے جائیں گے، جبکہ ضلع پشاور اور خیبر میں یہ مہم سات دن تک جاری رہے گی۔ مہم کو کامیاب بنانے کے لیے 22 ہزار 450 ٹیمیں تشکیل دی گئی ہیں، جن میں 20 ہزار 507 موبائل ٹیمیں، 1 ہزار 113 فکسڈ اور 830 ٹرانزٹ ٹیمیں شامل ہیں، جن کی مؤثر نگرانی کے لیے 5 ہزار 444 ایریا انچارجز بھی تعینات کیے گئے ہیں۔