تہران/دبئی: ایران اور متحدہ عرب امارات (UAE) کے درمیان سفارتی تعلقات شدید ترین بحران کا شکار ہو گئے ہیں۔ ایرانی پارلیمان کی قومی سلامتی کمیٹی کے رکن علی خضریان نے ایک سنگین بیان میں اعلان کیا ہے کہ ایران اب متحدہ عرب امارات کو ایک پڑوسی ملک کے بجائے "دشمن کے فوجی ٹھکانے" کے طور پر دیکھتا ہے۔
تہران سے جاری ہونے والے بیانات کے مطابق، ایران نے الزام عائد کیا ہے کہ متحدہ عرب امارات نے حالیہ تنازع کے دوران ایران کے خلاف فوجی اور انٹیلی جنس تعاون فراہم کیا ہے۔ علی خضریان نے دعویٰ کیا کہ ایسے شواہد موجود ہیں کہ اماراتی طیاروں نے اپنی شناخت چھپا کر براہِ راست ایرانی سرزمین کو نشانہ بنایا۔ انہوں نے خبردار کیا کہ جس طرح ایران نے اربیل (عراق) میں دشمن کے اڈوں کو نشانہ بنایا، اب متحدہ عرب امارات میں موجود امریکی اڈوں کو بھی کسی بھی وقت نشانہ بنایا جا سکتا ہے۔
دوسری جانب، متحدہ عرب امارات نے ان الزامات کو یکسر مسترد کرتے ہوئے اپنے دفاعی تعلقات کو ایک "خود مختار معاملہ" قرار دیا ہے۔ اماراتی حکام کا کہنا ہے کہ ان کے فضائی دفاعی نظام نے گزشتہ چند روز میں ایران کی جانب سے داغے گئے متعدد بیلسٹک میزائلوں اور ڈرونز کو کامیابی سے ناکام بنایا ہے۔ اس کشیدگی کے باعث خطے میں تجارتی سرگرمیاں متاثر ہونے اور ایرانی شہریوں کے لیے ویزا مسائل پیدا ہونے کی اطلاعات بھی موصول ہو رہی ہیں۔