حسبان میڈیا - Hasban Media Logo
آئی ایم اف ایگزیکٹو بورڈ نے پاکستان کے لیے 1.2 ارب ڈالر کی نئی قسط منظور کر لی Home / پاکستان /

آئی ایم اف ایگزیکٹو بورڈ نے پاکستان کے لیے 1.2 ارب ڈالر کی نئی قسط منظور کر لی

ایڈیٹر - 09/05/2026
 آئی ایم اف ایگزیکٹو بورڈ نے پاکستان کے لیے 1.2 ارب ڈالر کی نئی قسط منظور کر لی

آئی ایم ایف بورڈ کی جانب سے 1.2 ارب ڈالر کی نئی قسط منظور: ملکی معیشت کے لیے بڑی خوشخبری

اسلام آباد: عالمی مالیاتی فنڈ (IMF) کے ایگزیکٹو بورڈ نے پاکستان کے لیے 1.2 Billion Dollar کی اگلی قسط جاری کرنے کی حتمی منظوری دے دی ہے۔ واشنگٹن میں منعقدہ اہم اجلاس کے دوران پاکستان اور آئی ایم ایف کے درمیان ہونے والے کامیاب معاشی جائزوں کے بعد اس Investment پیکج کی منظوری دی گئی، جو ملکی معیشت کے استحکام میں کلیدی کردار ادا کرے گی۔

 

اعلامیے کے مطابق، بورڈ نے پاکستان کی جانب سے کی گئی معاشی اصلاحات کو سراہا ہے، جن میں سخت مانیٹری پالیسی، مالیاتی نظم و ضبط اور ٹیکس نیٹ میں اضافے کی کوششیں شامل ہیں۔ آئی ایم ایف بورڈ کے فیصلے کے تحت مجموعی طور پر تقریباً 1.1 ارب ڈالر فراہم کیے جائیں گے، جبکہ 'ریز یلینس اینڈ سسٹین ایبلٹی فیسیلٹی' (RSF) کے تحت مزید 210 ملین ڈالر بھی پاکستان کو ملیں گے۔ اس اضافی رقم کا مقصد موسمیاتی تبدیلیوں کے حوالے سے معاشی استحکام کو بہتر بنانا ہے۔

اہم تفصیلات:

  • Total Funding: آئی ایم ایف بورڈ کے فیصلے کے مطابق، پاکستان کو مجموعی طور پر تقریباً 1.2 ارب ڈالر فراہم کیے جائیں گے۔
  • Additional Support: اس کے علاوہ، 'ریز لئینس اینڈ سسٹین ایبلٹی فیسیلیٹی' کے دوسرے جائزے کے تحت مزید 210 Million Dollar بھی پاکستان کو ملیں گے۔
  • Foreign Exchange Reserves: اس قسط کی وصولی سے پاکستان کے زرِ مبادلہ کے ذخائر کو بڑا سہارا ملے گا اور بیرونی ادائیگیوں کے حوالے سے دباؤ میں نمایاں کمی آئے گی۔
  • Government Reforms: آئی ایم ایف بورڈ نے پاکستان کی جانب سے کی گئی حالیہ معاشی اصلاحات، بشمول سخت مانیٹری پالیسی اور ٹیکس نیٹ میں اضافے کی کوششوں کو سراہا ہے۔
  • Future Targets: پاکستان کو پائیدار ترقی کے لیے گردشی قرضوں پر قابو پانے اور Privatization (نجکاری) کے عمل کو تیز کرنے کی ضرورت پر زور دیا گیا ہے۔
  • Market Impact: ذرائع کے مطابق یہ رقم اگلے چند روز میں پاکستان کو موصول ہو جائے گی، جس کے بعد ملکی Stock Market اور معیشت کے اعتماد میں مزید اضافہ ہوگا۔