کوئٹہ: صوبہ بلوچستان کے مختلف علاقوں میں پیش آنے والے ٹریفک حادثات، فائرنگ اور ڈوبنے کے واقعات میں خواتین اور بچوں سمیت 23 افراد جاں بحق اور متعدد زخمی ہو گئے ہیں۔ ان واقعات نے پورے صوبے میں غم و غصے اور سوگ کی لہر دوڑا دی ہے۔
سب سے بڑا حادثہ ضلع چاغی میں آر سی ڈی شاہراہ پر پیش آیا جہاں دالبندین کے قریب ایک تیز رفتار کار کا ٹائر پھٹ جانے کے باعث وہ مخالف سمت سے آنے والے بوزر سے ٹکرا گئی۔ ڈی ایس پی عابد شیرزئی کے مطابق اس خوفناک تصادم میں 10 افغان شہری موقع پر ہی دم توڑ گئے جبکہ 6 افراد شدید زخمی ہوئے۔ ابتدائی تحقیقات کے مطابق یہ تمام افراد غیر قانونی طور پر سفر کر رہے تھے۔ اسی طرح خانوزئی کے علاقے میں ایک لوڈر رکشہ گہری کھائی میں جا گرا، جس کے نتیجے میں سپن ٹکی نانا صاحب کے رہائشی 5 افراد لقمہ اجل بن گئے۔
امن و امان کی صورتحال کے حوالے سے نوشکی کے علاقے کلی جمالدینی میں ایک افسوسناک واقعہ پیش آیا جہاں نامعلوم مسلح افراد نے بوائز ہائی اسکول کی لائبریری میں گھس کر فائرنگ کی، جس سے حق نواز اور محمد اکرم نامی دو افراد جاں بحق ہو گئے۔ ضلع کچھی میں گھریلو ناچاقی پر ایک شخص نے فائرنگ کر کے اپنی ہی بیوی اور بیٹی کو قتل کر دیا، جبکہ حب اور گڈانی میں بھی فائرنگ اور ڈوبنے کے واقعات میں 4 افراد جان سے ہاتھ دھو بیٹھے۔ پولیس نے تمام واقعات کے مقدمات درج کر کے تحقیقات کا آغاز کر دیا ہے۔