متحدہ عرب امارات پر حالیہ میزائل اور ڈرون حملوں کے بعد خطے میں کشیدگی بڑھ گئی ہے، جبکہ ایران نے ان حملوں میں ملوث ہونے کی سختی سے تردید کر دی ہے۔
قطری نشریاتی ادارے الجزیرہ کے مطابق ایرانی ریاستی میڈیا سے وابستہ عسکری ذرائع کا کہنا ہے کہ تہران نے امارات پر کسی قسم کے حملے کی منصوبہ بندی نہیں کی تھی اور یہ صورتحال دراصل امریکا کی مبینہ فوجی سرگرمیوں کا نتیجہ ہے۔ ایرانی حکام کا مؤقف ہے کہ ماضی میں جب بھی ایران نے کوئی کارروائی کی، اس کا کھلے عام اعتراف کیا گیا، تاہم اس واقعے میں ایسا نہیں ہوا۔
دوسری جانب نیم سرکاری خبر ایجنسی تسنیم نے ایک ایرانی فوجی عہدیدار کے حوالے سے خبردار کیا ہے کہ اگر متحدہ عرب امارات نے کوئی غیر محتاط اقدام کیا تو اس کے مفادات کو نشانہ بنایا جا سکتا ہے۔
ادھر اماراتی حکام نے ایران پر براہِ راست الزام عائد کرتے ہوئے کہا ہے کہ پیر کے روز ملک کو میزائلوں اور ڈرونز کے ذریعے نشانہ بنایا گیا، جس کے نتیجے میں ریاست فجیرہ میں واقع ایک آئل ریفائنری میں آگ بھڑک اٹھی اور تین بھارتی شہری زخمی ہو گئے۔
متحدہ عرب امارات کی وزارت دفاع کے مطابق فضائی دفاعی نظام نے 12 بیلسٹک میزائل، 3 کروز میزائل اور 4 ڈرونز کو فضا ہی میں تباہ کر دیا۔ اماراتی وزارت خارجہ نے ان حملوں کو دہشت گردانہ کارروائی قرار دیتے ہوئے شدید مذمت کی اور واضح کیا کہ ملک اپنی خودمختاری کے تحفظ کے لیے جواب دینے کا حق محفوظ رکھتا ہے۔
یہ واقعہ 8 اپریل کو ہونے والی جنگ بندی کے بعد پہلی بڑی خلاف ورزی کے طور پر دیکھا جا رہا ہے۔ کشیدگی اس وقت مزید بڑھی جب امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے آبنائے ہرمز میں موجود جہازوں کو امریکی نگرانی میں نکالنے کا اعلان کیا، جس پر ایران نے سخت ردعمل دیتے ہوئے اپنی سمندری حدود میں کسی بھی مداخلت کو ناقابل قبول قرار دیا۔
صورتحال کے پیش نظر متحدہ عرب امارات میں قائم امریکی مشن نے اپنے شہریوں کے لیے فضائی خطرات سے متعلق انتباہ جاری کیا ہے اور غیر ضروری سرکاری عملے کو واپس بلانے کے اقدامات بھی شروع کر دیے ہیں۔
عالمی برادری کی جانب سے بھی ان حملوں پر شدید ردعمل سامنے آیا ہے۔ سعودی عرب، پاکستان، قطر، کویت، بحرین اور اردن نے متحدہ عرب امارات کے ساتھ یکجہتی کا اظہار کیا ہے۔ یورپی یونین کی قیادت نے اس واقعے کو بین الاقوامی قوانین کی خلاف ورزی قرار دیا ہے۔
پاکستان کے وزیر اعظم شہباز شریف نے بھی اس صورتحال پر تشویش ظاہر کرتے ہوئے فریقین پر زور دیا ہے کہ وہ جنگ بندی کا احترام کریں اور سفارتی ذرائع سے پائیدار امن کے قیام کی کوششیں تیز کریں۔
بھارت نے اپنے شہریوں کے زخمی ہونے پر تشویش کا اظہار کرتے ہوئے شہری تنصیبات کو نشانہ بنانے کی کارروائیوں کو ناقابل قبول قرار دیا ہے۔
حفاظتی اقدامات کے تحت متحدہ عرب امارات نے ملک بھر میں تعلیمی اداروں میں جمعہ تک آن لائن تدریس کا فیصلہ بھی کیا ہے تاکہ ممکنہ خطرات سے بچا جا سکے۔