عالمی مارکیٹ میں خام تیل کی قیمتوں میں زبردست اضافہ: امریکی ناکہ بندی نے پٹرولیم بحران سنگین کر دیا
اسلام آباد / واشنگٹن: امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کی جانب سے ایران کی بحری ناکہ بندی (Naval Blockade) جاری رکھنے کے باقاعدہ اعلان کے بعد عالمی منڈی میں خام تیل کی قیمتیں گزشتہ 4 سال کی بلند ترین سطح پر پہنچ گئی ہیں۔ ماہرین نے خبردار کیا ہے کہ اگر بحری ناکہ بندی طویل ہوئی اور ایران امریکا مذاکرات تعطل کا شکار رہے تو توانائی کا عالمی بحران مزید شدت اختیار کر سکتا ہے۔
معاشی ماہرین نے خبردار کیا ہے کہ اگر ایران اور امریکہ کے درمیان مذاکرات تعطل کا شکار رہتے ہیں اور بحری ناکہ بندی کا سلسلہ جاری رہتا ہے، تو سپلائی چین متاثر ہونے کی وجہ سے قیمتیں مزید بڑھ سکتی ہیں۔ تجزیہ کاروں کا کہنا ہے کہ توانائی کی بڑھتی ہوئی یہ قیمتیں عالمی سطح پر مہنگائی کے نئے طوفان کا پیش خیمہ ثابت ہو سکتی ہیں، جس سے ترقی پذیر ممالک کی معیشتیں بری طرح متاثر ہونے کا خدشہ ہے۔
اہم تفصیلات اور مارکیٹ کے اعداد و شمار:
- برطانوی خام تیل (Brent Crude): عالمی منڈی میں برطانوی خام تیل کی قیمت میں 8 فیصد کا بڑا اضافہ ریکارڈ کیا گیا ہے، جس کے بعد نئی قیمت 121 ڈالر فی بیرل ہو گئی ہے۔
- امریکی خام تیل (WTI Crude): امریکی خام تیل کی قیمت میں بھی 7 فیصد اضافہ دیکھا گیا ہے، جس سے اس کی نئی قیمت 108 ڈالر فی بیرل کی سطح تک پہنچ گئی ہے۔
- بڑی سرمایہ کاری اور منافع (Investment and Profit): عالمی منڈی میں قیمتوں کے اس غیر یقینی رجحان کی وجہ سے بڑے سرمایہ کاروں کی توجہ خام تیل میں Investment کی طرف بڑھ گئی ہے، جس سے عالمی منڈیوں میں نمایاں منافع (Profit) کی شرح بھی بڑھی ہے۔
- حکومتی پالیسی اور اثرات: امریکی صدر کی جانب سے ایران کے خلاف سخت معاشی دباؤ کی Government Scheme کے تحت اس ناکہ بندی کو مزید طویل کرنے کا امکان ہے، جو عالمی معیشت کے لیے خطرے کی گھنٹی ہے۔
- بیمہ اور رجسٹریشن (Insurance and Registration): تیل بردار جہازوں کی Insurance اور نئی شپنگ Registration کے قوانین میں تبدیلی کی خبروں نے بھی قیمتوں کو اوپر دھکیلنے میں اہم کردار ادا کیا ہے۔