اسلام آباد ( حسبان میڈیا): قومی احتساب بیورو (نیب) نے رئیل اسٹیٹ ٹائیکون اور بحریہ ٹاؤن کے بانی ملک ریاض اور ان کے بیٹے علی ریاض کی گرفتاری کے لیے انٹرپول سے رابطہ کر لیا ہے۔ نیب حکام کے مطابق دونوں شخصیات کے خلاف کرپشن کے مقدمات میں ریڈ نوٹسز جاری کر دیے گئے ہیں۔
نیب کے ترجمان نے برطانوی نشریاتی ادارے کو تصدیق کی ہے کہ یہ اقدام رئیل اسٹیٹ کے شعبے میں مبینہ کرپشن اور 190 ارب روپے سے زائد کے غبن کی تحقیقات کے سلسلے میں اٹھایا گیا ہے۔ ذرائع کے مطابق ملک ریاض اس وقت متحدہ عرب امارات (دبئی) میں مقیم ہیں، جہاں ان کی کمپنی نے المکتوم ایئرپورٹ کے قریب ایک بڑے رہائشی و تجارتی منصوبے پر کام شروع کر رکھا ہے۔
دوسری جانب قانونی ماہرین اور نیب کے سابق پراسیکیوٹر عمران شفیق کا کہنا ہے کہ ریڈ نوٹس کا مطلب یہ ہے کہ متعلقہ شخص اپنے ملک میں مطلوب اور اشتہاری ہے، تاہم انٹرپول براہِ راست گرفتاری نہیں کرتا۔ انٹرپول متعلقہ ملک کو مطلع کرتا ہے، جس کے بعد اس شخص کو وہاں کی عدالت میں پیش کیا جاتا ہے جہاں اسے تمام قانونی حقوق حاصل ہوتے ہیں۔ اب یہ متعلقہ ملک کی مرضی پر منحصر ہے کہ وہ ملزم کو گرفتار کر کے حوالے کرتا ہے یا نہیں۔
اہم تفصیلات اور تحقیقاتی نکات: