حسبان میڈیا - Hasban Media Logo
نیب نے ملک ریاض اور ان کے بیٹے علی ریاض کی گرفتاری کے لیے انٹرپول سے رابطہ کر لیا۔ Home / پاکستان /

نیب نے ملک ریاض اور ان کے بیٹے علی ریاض کی گرفتاری کے لیے انٹرپول سے رابطہ کر لیا۔

ایڈیٹر - 30/04/2026
نیب نے ملک ریاض اور ان کے بیٹے علی ریاض کی گرفتاری کے لیے انٹرپول سے رابطہ کر لیا۔


اسلام آباد ( حسبان میڈیا): قومی احتساب بیورو (نیب) نے رئیل اسٹیٹ ٹائیکون اور بحریہ ٹاؤن کے بانی ملک ریاض اور ان کے بیٹے علی ریاض کی گرفتاری کے لیے انٹرپول سے رابطہ کر لیا ہے۔ نیب حکام کے مطابق دونوں شخصیات کے خلاف کرپشن کے مقدمات میں ریڈ نوٹسز جاری کر دیے گئے ہیں۔

نیب کے ترجمان نے برطانوی نشریاتی ادارے کو تصدیق کی ہے کہ یہ اقدام رئیل اسٹیٹ کے شعبے میں مبینہ کرپشن اور 190 ارب روپے سے زائد کے غبن کی تحقیقات کے سلسلے میں اٹھایا گیا ہے۔ ذرائع کے مطابق ملک ریاض اس وقت متحدہ عرب امارات (دبئی) میں مقیم ہیں، جہاں ان کی کمپنی نے المکتوم ایئرپورٹ کے قریب ایک بڑے رہائشی و تجارتی منصوبے پر کام شروع کر رکھا ہے۔

دوسری جانب قانونی ماہرین اور نیب کے سابق پراسیکیوٹر عمران شفیق کا کہنا ہے کہ ریڈ نوٹس کا مطلب یہ ہے کہ متعلقہ شخص اپنے ملک میں مطلوب اور اشتہاری ہے، تاہم انٹرپول براہِ راست گرفتاری نہیں کرتا۔ انٹرپول متعلقہ ملک کو مطلع کرتا ہے، جس کے بعد اس شخص کو وہاں کی عدالت میں پیش کیا جاتا ہے جہاں اسے تمام قانونی حقوق حاصل ہوتے ہیں۔ اب یہ متعلقہ ملک کی مرضی پر منحصر ہے کہ وہ ملزم کو گرفتار کر کے حوالے کرتا ہے یا نہیں۔

 

اہم تفصیلات اور تحقیقاتی نکات:

  • کرپشن انویسٹی گیشن (Corruption Investigation): نیب حکام کے مطابق یہ کارروائی رئیل اسٹیٹ سیکٹر میں مبینہ طور پر کی گئی 190 ارب روپے سے زائد کی کرپشن اور غبن (Embezzlement) کے مقدمات میں کی گئی ہے۔
  • انٹرپول ریڈ نوٹس (Interpol Red Notice): ریڈ نوٹس کے اجراء کا مقصد یہ ہے کہ ملزمان اب بین الاقوامی سطح پر اشتہاری قرار دیے جا چکے ہیں اور متعلقہ ممالک کو ان کی موجودگی کی اطلاع فراہم کرنا لازمی ہوگا۔
  • دبئی میں موجودگی اور سرمایہ کاری (Investment in Dubai): ذرائع کا دعویٰ ہے کہ ملک ریاض اس وقت متحدہ عرب امارات میں مقیم ہیں جہاں وہ المکتوم ایئرپورٹ کے قریب ایک میگا رہائشی و تجارتی منصوبے میں بھاری Investment کر رہے ہیں۔
  • رجسٹریشن اور قانونی کارروائی (Registration and Legal Action): قانون کے مطابق اب انٹرپول متعلقہ ملک (UAE) کو مطلع کرے گا جس کے بعد ملزمان کو وہاں کی عدالت میں پیش کیا جا سکتا ہے۔
  • حکومتی اسکیم (Government Scheme) اور ریکوری: نیب کا مقصد قومی خزانے سے غبن کی گئی رقم کی واپسی اور ملزمان کی گرفتاری کو یقینی بنانا ہے تاکہ احتساب کا عمل مکمل کیا جا سکے۔