خیبرپختونخوا خصوصاً پشاور میں جرائم کی بڑھتی ہوئی وارداتوں نے شہریوں میں عدم تحفظ کا احساس بڑھا دیا ہے۔ گزشتہ 24 گھنٹوں کے دوران مختلف اضلاع میں قتل، اغوا اور راہزنی کے متعدد واقعات رپورٹ ہوئے، جس کے بعد عوامی حلقوں میں شدید تشویش پائی جا رہی ہے۔
پشاور کے علاقے اچینی بالا میں نامعلوم افراد کی فائرنگ سے ایک مقامی کاروباری شخصیت جاں بحق ہوگئی۔ پولیس کے مطابق موٹرسائیکل سوار حملہ آوروں نے فوڈ بزنس سے وابستہ ملک واصف کو نشانہ بنایا اور موقع سے فرار ہوگئے۔ واقعے کی وجوہات تاحال واضح نہیں ہوسکیں، جبکہ لاش کو قانونی کارروائی کے لیے اسپتال منتقل کر دیا گیا ہے۔
اسی طرح ضلع چارسدہ کی تحصیل شبقدر میں ایک نوجوان کو گھر میں گھس کر فائرنگ کر کے قتل کر دیا گیا۔ پولیس نے مقتول کے والد کی مدعیت میں نامعلوم افراد کے خلاف مقدمہ درج کرکے تحقیقات شروع کر دی ہیں۔
ادھر ضلع لکی مروت میں بنوں-ڈی آئی خان شاہراہ پر ایک ٹرک ڈرائیور کو فائرنگ کر کے قتل کر دیا گیا۔ پولیس کے مطابق مقتول قمر عباس سبزیوں کی ترسیل کے لیے سفر کر رہا تھا۔ بعض اطلاعات میں واقعے کو ڈکیتی کے دوران مزاحمت کا نتیجہ قرار دیا جا رہا ہے۔ تاجروں نے اس واقعے پر تشویش کا اظہار کرتے ہوئے ملزمان کی فوری گرفتاری کا مطالبہ کیا ہے۔
دوسری جانب پشاور میں اغوا کی وارداتوں میں بھی اضافہ دیکھنے میں آیا ہے۔ حیات آباد سے ایک خاتون ڈاکٹر جبکہ چمکنی سے کم عمر طالبہ کے اغوا کی اطلاعات ہیں۔ پولیس نے دونوں واقعات کے مقدمات درج کر کے تحقیقات شروع کر دی ہیں۔ ایک کیس میں شبہ ظاہر کیا جا رہا ہے کہ طالبہ کو شادی کی غرض سے ورغلا کر اغوا کیا گیا۔
بنوں کے علاقے ڈومیل میں بھی ایک سرکاری ملازم کو نامعلوم افراد نے اغوا کر لیا۔ مغوی کے اہل خانہ اور مقامی افراد نے تعاقب کے دوران اغوا کاروں سے مقابلہ بھی کیا، تاہم ملزمان مغوی کو ساتھ لے جانے میں کامیاب رہے۔ سیکیورٹی اداروں نے علاقے میں سرچ آپریشن شروع کر دیا ہے۔
پشاور کے علاقے ناصر باغ میں اسٹریٹ کرائم کی وارداتیں بھی سامنے آئی ہیں جہاں مختلف مقامات پر شہریوں سے موبائل فون چھیننے کے واقعات رپورٹ ہوئے۔ پولیس نے مقدمات درج کرکے ملزمان کی تلاش شروع کر دی ہے۔
مزید برآں سوڑیزئی پایان میں اراضی تنازعے پر جھگڑے کے دوران تین افراد کو تشدد کا نشانہ بنایا گیا۔ زخمی افراد نے مخالفین کے خلاف مقدمہ درج کرا دیا ہے، جبکہ ملزمان موقع سے فرار ہو گئے۔
ان مسلسل واقعات کے بعد شہریوں نے قانون نافذ کرنے والے اداروں سے مطالبہ کیا ہے کہ سیکیورٹی اقدامات سخت کیے جائیں اور جرائم پیشہ عناصر کے خلاف مؤثر کارروائی عمل میں لائی جائے تاکہ عوام کو تحفظ فراہم کیا جا سکے۔