کراچی میں واقع پاکستان اسٹیل ملز میں بڑے پیمانے پر مالی بے ضابطگیوں اور قیمتی سامان کی منظم چوری کا معاملہ سامنے آگیا ہے، جس پر فیڈرل انویسٹی گیشن ایجنسی (ایف آئی اے) نے تحقیقات کا آغاز کر دیا ہے۔
ذرائع کے مطابق وزارت صنعت و پیداوار کو موصول ہونے والی شکایت کے بعد معاملے کی چھان بین شروع کی گئی، جس میں ابتدائی مرحلے پر ہی اہم شواہد حاصل ہونے کا دعویٰ کیا جا رہا ہے۔ تحقیقات کے دوران یہ بات سامنے آئی کہ اسٹیل ملز سے مہنگی مشینری، برقی کیبلز، اسکریپ اور دیگر اہم سامان بغیر کسی قانونی اجازت یا گیٹ پاس کے مسلسل باہر منتقل کیا جاتا رہا۔
حکام کے مطابق اس عمل میں سیکیورٹی انتظامات کی سنگین غفلت یا ممکنہ ملی بھگت کا شبہ ظاہر کیا جا رہا ہے، جبکہ ڈی ایس ایف اہلکاروں کے کردار پر بھی سوالات اٹھ رہے ہیں۔ مزید تفتیش میں 36 ٹن سرکاری سامان سے لدے ایک بڑے ٹریلر کی برآمدگی نے اس مبینہ نیٹ ورک کی وسعت کو مزید واضح کر دیا۔
ابتدائی شواہد سے ظاہر ہوتا ہے کہ یہ کارروائیاں ایک منظم گروہ کے ذریعے انجام دی جا رہی تھیں، جس میں ادارے کے اندرونی ملازمین، سیکیورٹی عملہ اور اسکریپ کے کاروبار سے وابستہ افراد کے درمیان باقاعدہ گٹھ جوڑ موجود تھا۔
رپورٹس کے مطابق اس کیس میں ابتدائی طور پر مقدمہ درج کیا گیا، تاہم اسے جلد ہی کم اہمیت دے کر بند کرنے کی کوشش بھی کی گئی، جس نے معاملے کو مزید مشکوک بنا دیا ہے۔ ایف آئی اے نے اس پہلو کو بھی اپنی تحقیقات کا حصہ بنا لیا ہے۔
حکام کا کہنا ہے کہ مرکزی ملزمان اور سہولت کاروں کی نشاندہی کر لی گئی ہے اور جلد ہی اس بڑے اسکینڈل میں ملوث عناصر کے خلاف مزید کارروائی متوقع ہے۔