لوئر دیر میں ایک افسوسناک اور تشویشناک واقعہ سامنے آیا ہے، جہاں ایک سرکاری اسکول کے استاد پر کمسن طالب علم پر مبینہ طور پر بہیمانہ تشدد کرنے کا الزام عائد کیا گیا ہے۔ واقعے نے علاقے میں غم و غصے کی لہر دوڑا دی ہے اور تعلیمی اداروں میں بچوں کے تحفظ پر سوالات کھڑے کر دیے ہیں۔
پولیس ذرائع کے مطابق یہ واقعہ صدیقہ بانڈہ عشیرئی درہ میں پیش آیا، جہاں ایک گورنمنٹ پرائمری اسکول کے طالب علم کو مبینہ طور پر ہوم ورک مکمل نہ کرنے پر تشدد کا نشانہ بنایا گیا۔ تشدد اس قدر شدید بتایا جا رہا ہے کہ بچے کے دونوں بازو فریکچر ہو گئے۔
متاثرہ طالب علم کو فوری طور پر قریبی ہسپتال منتقل کیا گیا، جہاں اسے طبی امداد فراہم کی جا رہی ہے۔ ڈاکٹرز کے مطابق بچے کی حالت اب خطرے سے باہر ہے، تاہم وہ شدید صدمے سے گزر رہا ہے۔
واقعے کے بعد مقامی پولیس نے فوری کارروائی کرتے ہوئے ملزم استاد کے خلاف مقدمہ درج کر لیا ہے اور اسے گرفتار بھی کر لیا گیا ہے۔ حکام کا کہنا ہے کہ واقعے کی مکمل تحقیقات جاری ہیں اور ذمہ دار کے خلاف قانون کے مطابق کارروائی کی جائے گی۔