خطے میں کشیدگی ایک بار پھر شدت اختیار کرتی دکھائی دے رہی ہے، جہاں ایرانی فوج کے سینئر افسر محمد رضا نے ایک سخت بیان میں ممکنہ تنازع کے خطرناک نتائج سے خبردار کیا ہے۔ ان کا کہنا ہے کہ اگر ایران کے خلاف دوبارہ جنگ مسلط کی گئی تو یہ محض ایک علاقائی تصادم نہیں رہے گی بلکہ عالمی سطح کی جنگ میں تبدیل ہو سکتی ہے۔
اپنے بیان میں محمد رضا نے زور دیا کہ امریکا ایران کی دفاعی صلاحیتوں، خصوصاً میزائل پروگرام، کو کسی صورت محدود نہیں کر سکتا۔ انہوں نے عندیہ دیا کہ ایران نے حالیہ مہینوں میں اپنی عسکری تیاریوں کو مزید مضبوط کیا ہے اور کسی بھی ممکنہ جارحیت کا بھرپور جواب دینے کے لیے تیار ہے۔
ایرانی جنرل نے واضح کیا کہ اگر کشیدگی دوبارہ جنگ میں تبدیل ہوئی تو ایران جدید ہتھیاروں کے ذریعے فوری ردعمل دے گا، جس کے اثرات خطے سے کہیں آگے تک محسوس کیے جا سکتے ہیں۔
یاد رہے کہ رواں سال 28 فروری کو اسرائیل اور امریکا کی جانب سے ایران پر بڑے پیمانے پر حملے کیے گئے تھے، جس کے بعد ایران نے بھی جوابی کارروائیاں کیں۔ دونوں فریقین کے درمیان تقریباً چالیس روز تک جاری رہنے والی کشیدگی نے خطے کو ایک بڑے تصادم کے دہانے پر لا کھڑا کیا تھا۔
بعد ازاں پاکستان کی سفارتی کوششوں کے نتیجے میں فریقین ایک عارضی جنگ بندی پر آمادہ ہوئے، جس کے تحت دو ہفتوں کے لیے لڑائی روک دی گئی۔ اسی تناظر میں 11 اپریل کو اسلام آباد میں اعلیٰ سطحی مذاکرات بھی منعقد ہوئے، جنہیں کشیدگی کم کرنے کی ایک اہم پیش رفت قرار دیا گیا۔
تجزیہ کاروں کے مطابق حالیہ بیانات اس بات کی نشاندہی کرتے ہیں کہ اگرچہ جنگ بندی قائم ہے، تاہم اعتماد کا فقدان برقرار ہے اور کسی بھی وقت صورتحال دوبارہ بگڑ سکتی ہے، جس کے اثرات عالمی سطح پر مرتب ہونے کا خدشہ ہے۔