پولیس تھانہ چکدرہ کے حدود میں پیش آنے والے مبینہ 70 لاکھ روپے کی راہزنی کے واقعے کا پولیس نے کامیابی سے ڈراپ سین کر دیا۔ تفتیش کے دوران حیران کن انکشاف سامنے آیا کہ مدعی خود ہی اس مبینہ واردات میں ملوث تھا اور اس نے جھوٹی کہانی تراش کر پولیس کو گمراہ کرنے کی کوشش کی۔ یہ بات ڈی پی او لوئر دیر فرقان بلال نے چکدرہ پریس کلب میں میڈیا سے گفتگو کرتے ہوئے بتائی۔
تفصیلات کے مطابق محلہ تاج کالونی چکدرہ کے رہائشی خوشحال خان ولد محمد حنیف نے تھانہ چکدرہ میں رپورٹ درج کرائی تھی کہ 10 اپریل کی رات تقریباً 11 بجے وہ اپنے دوستوں کے ہمراہ ہوٹل میں چائے پینے کے بعد گھر واپس جا رہے تھے کہ دو نامعلوم نقاب پوش افراد نے اسلحے کی نوک پر انہیں روک کر 70 لاکھ روپے چھین لیے اور فرار ہو گئے۔ مدعی کا موقف تھا کہ یہ رقم اس کے والد نے بینک میں جمع کروانے کے لیے دی تھی۔
واقعے کا نوٹس لیتے ہوئے ڈی پی او لوئر دیر فرقان بلال نے فوری طور پر ڈی ایس پی ادینزئی اور ایس ایچ او تھانہ چکدرہ کو ملزمان کی گرفتاری اور مکمل تفتیش کی ہدایات جاری کیں۔ نامعلوم ملزمان کے خلاف مقدمہ درج کر کے پولیس ٹیم نے جدید سائنسی بنیادوں پر تفتیش کا آغاز کیا، جس کے دوران مختلف افراد سے پوچھ گچھ اور تکنیکی شواہد کا باریک بینی سے جائزہ لیا گیا۔
انٹروگیشن کے دوران اہم انکشاف سامنے آیا کہ مدعی خوشحال خان نے نہ صرف جھوٹی کہانی گھڑ کر پولیس کو گمراہ کرنے کی کوشش کی بلکہ سوشل میڈیا پر بھی جھوٹی معلومات پھیلا کر عوام کو مشتعل کرنے اور احتجاج پر اکسانے کی کوشش کی۔ ابتدائی تحقیقات کے مطابق یہ سارا ڈرامہ مبینہ طور پر تھانہ چکدرہ کے ایس ایچ او کا تبادلہ کروانے کی غرض سے رچایا گیا تھا تاکہ عوامی ردعمل کو بھڑکا کر احتجاج اور پریس کانفرنسز کے ذریعے دباؤ ڈالا جا سکے۔
ترجمان لوئر دیر پولیس کے مطابق کیس کی مزید تفتیش جاری ہے اور مزید اہم انکشافات سامنے آنے کا امکان ہے۔