حسبان میڈیا - Hasban Media Logo
سعودی عرب کا پاکستان کیلئے 3 ارب ڈالر ڈپازٹ کا اعلان، معاشی استحکام کیلئے اہم پیش رفت Home / پاکستان /

سعودی عرب کا پاکستان کیلئے 3 ارب ڈالر ڈپازٹ کا اعلان، معاشی استحکام کیلئے اہم پیش رفت

ایڈیٹر - 14/04/2026
سعودی عرب کا پاکستان کیلئے 3 ارب ڈالر ڈپازٹ کا اعلان، معاشی استحکام کیلئے اہم پیش رفت

اسلام آباد: محمد بن سلمان  کی جانب سے پاکستان کے ساتھ قریبی اور برادرانہ تعلقات کے تسلسل میں 3 ارب ڈالر بطور ڈپازٹ فراہم کرنے کا اہم پیغام دیا گیا ہے، جسے دونوں ممالک کے درمیان مضبوط معاشی تعاون کی علامت قرار دیا جا رہا ہے۔

باخبر ذرائع کے مطابق سعودی ولی عہد نے حالیہ دنوں میں سعودی عرب  کے وزیر خزانہ کو مختصر دورے پر پاکستان بھیجا، جہاں انہوں نے پاکستانی قیادت کو یہ یقین دہانی کرائی کہ زرمبادلہ کے ذخائر میں ممکنہ کمی کے باوجود پاکستان کو کسی تشویش کی ضرورت نہیں ہوگی۔

اعلیٰ سرکاری ذرائع کا کہنا ہے کہ اس سفارتی رابطے کا بنیادی مقصد یہ پیغام دینا تھا کہ سعودی عرب پاکستان کے مالی استحکام کو برقرار رکھنے کیلئے ہر ممکن تعاون جاری رکھے گا اور ضرورت پڑنے پر فوری مدد فراہم کرے گا۔

یہ پیش رفت ایسے وقت میں سامنے آئی ہے جب ایک خلیجی ملک کی جانب سے پاکستان کے پاس رکھے گئے تقریباً 3 ارب ڈالر واپس لیے جا رہے ہیں، جس کے باعث زرِمبادلہ کے ذخائر پر دباؤ بڑھنے کا خدشہ تھا۔ اس صورتحال میں سعودی عرب نے مساوی رقم سٹیٹ بینک آف پاکستان میں بطور ڈپازٹ رکھنے کی یقین دہانی کرائی ہے تاکہ مالی استحکام برقرار رکھا جا سکے۔

حکام کے مطابق یہ اقدام سعودی قیادت کی جانب سے غیر معمولی تعاون کی عکاسی کرتا ہے اور اس سے دونوں ممالک کے درمیان اسٹریٹجک اعتماد مزید مضبوط ہوگا۔ واضح رہے کہ اس وقت بھی اسٹیٹ بینک میں سعودی عرب کے تقریباً 5 ارب ڈالر پہلے سے بطور ڈپازٹ موجود ہیں۔

ذرائع کے مطابق پاکستان کی سیاسی اور عسکری قیادت نے اس اقدام کو نہایت اہم قرار دیتے ہوئے سعودی ولی عہد کا شکریہ ادا کیا ہے۔

دوسری جانب وزیر اعظم شہباز شریف  کے جلد سعودی عرب کے دورے کا امکان ظاہر کیا جا رہا ہے، جہاں وہ ولی عہد محمد بن سلمان سے ملاقات کریں گے اور بروقت تعاون پر پاکستان کی جانب سے اظہار تشکر کریں گے۔

سفارتی ذرائع کا کہنا ہے کہ اس دورے کے دوران وزیر اعظم سعودی قیادت کو اسلام آباد میں جاری سفارتی سرگرمیوں، خصوصاً ایران اور امریکا کے درمیان مذاکرات میں پاکستان کے کردار سے بھی آگاہ کریں گے۔

پاکستان اس وقت دونوں ممالک کے درمیان مکالمے کو آگے بڑھانے کیلئے سرگرم ہے اور کوشش کی جا رہی ہے کہ 22 اپریل سے قبل مذاکرات کا ایک اور مرحلہ منعقد ہو، تاکہ عارضی جنگ بندی کو مستقل اور پائیدار امن میں تبدیل کیا جا سکے۔

ماہرین کے مطابق سعودی عرب کی مالی معاونت اور پاکستان کی سفارتی کاوشیں خطے میں استحکام کے فروغ کیلئے اہم ثابت ہو سکتی ہیں۔