یورپ جانے کا خواب ادھورا، لیبیا میں کشتی ڈوبنے میں نوشہرہ کے علاقہ شیدو کا ایک نوجوان الیکٹریکل انجینئر شازیب خان بھی شہید ہوئے۔۔
یورپ کے سنہری خواب آنکھوں میں سجا کر شیدو کا نوجوان دو سال پہلے سعودی عرب میں روزگار کے حصول کیلے مقیم شازیب خان بھی لیبیا کے سمندر میں زندگی کی بازی ہار گیا۔
موصولہ اطلاعات کے مطابق لیبیا کے ساحل کے قریب تارکین وطن کی کشتی ڈوبنے کے المناک حادثے میں مجموعی طور پر 70 سے زائد افراد کے ڈوبنے کی اطلاع ہے، جن میں نوشہرہ کے علاقہ شیدو کے رہائشی 24 سالہ نوجوان الیکٹریکل انجیئنر شازیب خان بھی شامل ہیں
جاں بحق ہونے والا نوجوان شازیب خان بہتر مستقبل کی تلاش اور روزگار کے حصول کے لیے سعودی عرب سے لیبیا کے ذریعے یورپ روانہ ہوئے تھے۔ گزشتہ روز لیبیا کے سمندر میں ان کی کشتی توازن برقرار نہ رکھ سکی اور بپھری لہروں کی نذر ہو گئی۔ حادثے کی اطلاع ملتے ہی شازیب کے گھر میں بھی کہرام مچ گیا اور علاقے کی فضا سوگوار ہو گئ۔
جاں بحق نوجوان کے لواحقین نے حکومتِ پاکستان اور دفتر خارجہ سے اپیل کی ہے کہ میتوں کو جلد از جلد وطن واپس لانے کے لیے اقدامات کیے جائیں۔