حسبان میڈیا - Hasban Media Logo
ایران کی طاقت ابھی بھی برقرار؟ امریکی انٹیلی جنس رپورٹ نے جنگی دعوؤں پر سوال اٹھا دیا Home / بین الاقوامی /

ایران کی طاقت ابھی بھی برقرار؟ امریکی انٹیلی جنس رپورٹ نے جنگی دعوؤں پر سوال اٹھا دیا

ایڈیٹر - 03/04/2026
ایران کی طاقت ابھی بھی  برقرار؟ امریکی انٹیلی جنس رپورٹ نے جنگی دعوؤں پر سوال اٹھا دیا

امریکی انٹیلی جنس کے ایک حالیہ جائزے میں انکشاف کیا گیا ہے کہ ایران اب بھی نمایاں حد تک میزائل اور ڈرون صلاحیت برقرار رکھے ہوئے ہے، حالانکہ گزشتہ چند ہفتوں کے دوران یونائیٹڈ سیٹس اور اسرائیل  کی جانب سے ایرانی عسکری اہداف پر مسلسل حملے کیے جاتے رہے ہیں۔

سی این این  کی رپورٹ کے مطابق ذرائع کا کہنا ہے کہ ایران کے تقریباً نصف میزائل لانچرز اب بھی محفوظ ہیں، جبکہ اس کے پاس ہزاروں خودکش ڈرونز کا ذخیرہ موجود ہے جو خطے میں بڑے پیمانے پر نقصان پہنچانے کی صلاحیت رکھتے ہیں۔

یہ جائزہ  ڈونلڈ ٹرمپ  اور ان کی انتظامیہ کے اس مؤقف سے مختلف ہے، جس میں دعویٰ کیا گیا تھا کہ ایران کی عسکری صلاحیت، خصوصاً میزائل اور ڈرون پروگرام، نمایاں طور پر کمزور ہو چکے ہیں۔ صدر ٹرمپ نے ایک حالیہ خطاب میں کہا تھا کہ ایران کے لانچرز اور اسلحہ سازی کے مراکز بڑی حد تک تباہ ہو چکے ہیں۔

دوسری جانب یونائیٹڈ سٹیٹس سنٹرل کمانڈ  کے مطابق ایران کے خلاف اب تک 12 ہزار سے زائد اہداف کو نشانہ بنایا جا چکا ہے، جس سے اس کی عسکری طاقت کو نقصان ضرور پہنچا ہے اور بعض اہم شخصیات بھی ہلاک ہوئی ہیں۔

انٹیلی جنس رپورٹ میں یہ بھی بتایا گیا ہے کہ ایران کے پاس اب بھی بڑی تعداد میں میزائل موجود ہیں، جبکہ تقریباً نصف ڈرون صلاحیت فعال ہے۔ پینٹاگان  نے بھی اس بات کی تصدیق کی ہے کہ اگرچہ ایرانی میزائل صلاحیت متاثر ہوئی ہے، تاہم اسے مکمل طور پر ختم نہیں کیا جا سکا۔

امریکی وزیر دفاع  پیٹ ہیگسیتھ کے مطابق بیلسٹک میزائل اور ڈرون حملوں میں تقریباً 90 فیصد کمی آئی ہے، تاہم خطرہ مکمل طور پر ٹلا نہیں۔

وائٹ ہاؤس کے ترجمان نے اس رپورٹ پر تنقید کرنے والوں کو مسترد کرتے ہوئے کہا کہ ایسے بیانات امریکی اور اتحادی افواج کی کامیابیوں کو کم کرکے پیش کرنے کے مترادف ہیں۔ ان کے مطابق ایران کی عسکری صلاحیت محدود ہو رہی ہے اور امریکا و اسرائیل کو فضائی برتری حاصل ہو چکی ہے۔

ادھر اسرائیلی عسکری ذرائع کا کہنا ہے کہ ایران کے فعال میزائل لانچرز کی تعداد اب تقریباً 20 سے 25 فیصد رہ گئی ہے، تاہم زیر زمین یا خفیہ مقامات پر موجود لانچرز اس تخمینے میں شامل نہیں۔

ماہرین کے مطابق ایران نے برسوں پہلے اپنے میزائل سسٹمز کو محفوظ رکھنے کے لیے زیر زمین سرنگوں اور غاروں کا وسیع نیٹ ورک قائم کیا تھا، جس کے باعث ان لانچرز کو مکمل طور پر تباہ کرنا مشکل ثابت ہو رہا ہے۔

مزید برآں، ایرانی بحریہ کی بھی خاطر خواہ صلاحیت برقرار ہے، جس میں بڑی تعداد میں چھوٹے جہاز شامل ہیں، جو خصوصاً آبنائے ہرمز  میں تجارتی سرگرمیوں کے لیے خطرہ بن سکتے ہیں۔

دفاعی ماہرین کے مطابق اگر ایران کی عسکری طاقت کو مکمل طور پر ختم کرنا مقصود ہو تو ابھی بھی متعدد اہداف باقی ہیں، جن میں پراکسی نیٹ ورکس اور ڈرون سسٹمز شامل ہیں، جو خطے کے لیے مسلسل خطرہ بنے ہوئے ہیں۔