امریکی ذرائع ابلاغ میں شائع ہونے والی تازہ رپورٹس میں دعویٰ کیا گیا ہے کہ ڈونلڈ ٹرمپ کی قیادت میں امریکی انتظامیہ ایران کے خلاف ممکنہ زمینی کارروائیوں پر غور کر رہی ہے، جبکہ سفارتی سطح پر مذاکرات کا عمل بھی جاری رکھا گیا ہے۔
دی واشنگٹن پوسٹ کی ایک رپورٹ کے مطابق امریکی حکام نے ایران کے خلاف دو اہم عسکری آپریشنز کی ابتدائی منصوبہ بندی کی ہے۔ ان میں پہلا ہدف ایران کے اہم تیل برآمدی مرکز، خارگ جزیرہ، کو بنایا جا سکتا ہے، جبکہ دوسرا ممکنہ آپریشن افزودہ یورینیم تک رسائی حاصل کرنے کے لیے ترتیب دیا گیا ہے۔
رپورٹ میں یہ بھی بتایا گیا ہے کہ امریکا پہلے ہی تقریباً ساڑھے تین ہزار میرینز اور بحریہ کے اہلکار خطے میں تعینات کر چکا ہے، جبکہ آئندہ ہفتوں کے دوران مزید اتنی ہی تعداد میں فوجیوں کی آمد متوقع ہے، جس سے خطے میں امریکی فوجی موجودگی میں نمایاں اضافہ ہو سکتا ہے۔
تجزیہ کاروں کے مطابق مجوزہ کارروائی مکمل جنگ کے درجے کی نہیں ہوگی، تاہم اس کے دوران امریکی افواج کو ایرانی ڈرونز، میزائل حملوں، زمینی مزاحمت اور بارودی سرنگوں جیسے سنگین خطرات لاحق ہو سکتے ہیں۔
وائٹ ہاؤس کی ترجمان کیرولین لیویٹ نے اس حوالے سے وضاحت کرتے ہوئے کہا کہ پینٹاگون کا کام مختلف عسکری آپشنز تیار کرنا ہے تاکہ صدر کو فیصلہ سازی میں مکمل دائرہ اختیار حاصل ہو۔ ان کے مطابق اس مرحلے پر کسی حتمی کارروائی کا فیصلہ نہیں کیا گیا۔
رپورٹ میں اس بات پر زور دیا گیا ہے کہ خارگ جزیرے پر ممکنہ قبضہ ایران کے لیے بڑا معاشی نقصان ثابت ہو سکتا ہے، کیونکہ یہ مقام ملک کی تیل برآمدات کا مرکزی مرکز تصور کیا جاتا ہے۔ اس کے نتیجے میں ایران کی فوجی سرگرمیوں کے لیے دستیاب مالی وسائل بھی متاثر ہو سکتے ہیں۔
دوسری جانب امریکی صدر کے قریبی حلقوں کی جانب سے خبردار کیا گیا ہے کہ ایران کی سرزمین پر براہ راست زمینی کارروائی ایک نہایت پیچیدہ اور خطرناک اقدام ہوگا، جس کے نتائج غیر یقینی ہو سکتے ہیں۔
ماہرین کا کہنا ہے کہ ایسی کسی کارروائی سے نہ تو فوری طور پر ایرانی حکومت کے خاتمے کی توقع کی جا سکتی ہے اور نہ ہی آبنائے ہرمز کی بحالی کی کوئی ضمانت دی جا سکتی ہے۔ ان کے مطابق یہ تنازع طویل جنگ میں تبدیل ہو سکتا ہے جسے مختصر مدت میں سمیٹنا مشکل ہوگا۔
ادھر ایران کے اندر بھی سخت ردعمل سامنے آیا ہے۔ ایرانی پارلیمنٹ کے اسپیکر محمد باقر قالیباف نے کہا ہے کہ بظاہر مذاکرات کی بات کی جا رہی ہے، لیکن پس پردہ عسکری کارروائی کی تیاری جاری ہے۔ ایرانی خبر رساں ادارے تسنیم نیوز ایجنسی کے مطابق انہوں نے خبردار کیا کہ ایرانی افواج کسی بھی ممکنہ جارحیت کا بھرپور جواب دینے کے لیے تیار ہیں۔
ان کا مزید کہنا تھا کہ ایران کا دفاعی نظام مکمل طور پر فعال ہے، میزائل صلاحیت مضبوط ہے اور دشمن کی کمزوریوں سے بخوبی آگاہی حاصل کی جا چکی ہے۔ تاہم یہ واضح نہیں ہو سکا کہ ان کا بیان براہ راست امریکی میڈیا رپورٹس کے ردعمل میں دیا گیا یا عمومی پالیسی مؤقف کا حصہ تھا۔