لندن: برطانیہ کے وزیر اعظم کیئر اسٹارمر نے مشرقِ وسطیٰ میں جاری کشیدگی کے حوالے سے دوٹوک مؤقف اختیار کرتے ہوئے کہا ہے کہ برطانیہ ایران سے متعلق تنازع میں نہ تو براہِ راست شریک ہوگا اور نہ ہی وہاں فوجی تعیناتی کی جائے گی۔
نیوز کانفرنس سے خطاب کرتے ہوئے برطانوی وزیراعظم نے واضح کیا کہ ان کی حکومت ملک کو کسی بھی جنگی صورتحال میں ملوث ہونے سے بچانے کے لیے پرعزم ہے اور برطانیہ کو اس تنازع کا حصہ نہیں بننے دیا جائے گا۔
انہوں نے کہا کہ ایران کے خلاف جاری عسکری کارروائیاں برطانیہ کی پالیسی کا حصہ نہیں اور نہ ہی اس تنازع سے برطانیہ کا کوئی براہِ راست تعلق ہے۔ ان کے بقول حکومت کی اولین ذمہ داری اپنے شہریوں کا تحفظ اور ملک کے لیے ایک مستحکم و محفوظ مستقبل کو یقینی بنانا ہے۔
کیئر اسٹارمر نے خبردار کیا کہ اگر مشرقِ وسطیٰ میں جاری کشیدگی کا جلد خاتمہ نہ ہوا تو اس کے اثرات عالمی معیشت پر منفی انداز میں مرتب ہوں گے، جس سے برطانوی معیشت بھی متاثر ہو سکتی ہے۔
انہوں نے مزید کہا کہ حکومت صورتحال کا بغور جائزہ لے رہی ہے اور سفارتی سطح پر کشیدگی کم کرنے اور امن کے قیام کے لیے کوششیں جاری ہیں، تاہم انہوں نے واضح کر دیا کہ برطانیہ کسی بھی قسم کی فوجی کارروائی میں شامل ہونے کا ارادہ نہیں رکھتا۔