پشاور: خیبرپختونخوا میں سرکاری سطح پر ادویات اور طبی سامان کی خریداری میں مبینہ بے ضابطگیوں کے انکشاف کے بعد محکمہ صحت نے نگرانی کے نظام کو مزید مؤثر اور سخت بنانے کا فیصلہ کر لیا ہے۔
محکمہ صحت کی جانب سے جاری کردہ مراسلے کے مطابق صوبے بھر میں علاقائی سطح پر خصوصی سرویلنس کمیٹیاں قائم کر دی گئی ہیں، جو مختلف سرکاری ہسپتالوں میں ادویات کے معیار، استعمال اور دستیابی کی کڑی نگرانی کریں گی۔
حکام کا کہنا ہے کہ میڈیکل کمپوننٹ کمیٹی کے تحت خریدی گئی ادویات کی جانچ پڑتال کا باقاعدہ عمل شروع کر دیا گیا ہے، جس کے تحت نہ صرف ادویات کے معیار بلکہ ان کے درست اور مؤثر استعمال کو بھی یقینی بنایا جائے گا۔ نئی تشکیل دی گئی کمیٹیاں ہسپتالوں میں سٹاک مینجمنٹ، ادویات کی فراہمی اور ان کے ذخیرہ کرنے کے طریقہ کار کا بھی تفصیلی جائزہ لیں گی۔
مراسلے میں اس بات پر بھی زور دیا گیا ہے کہ سٹینڈرڈ میڈیسن لسٹ پر سختی سے عمل درآمد کیا جائے اور غیر ضروری یا اضافی خریداری کی حوصلہ شکنی کی جائے۔ اس کے ساتھ ساتھ تمام سرکاری طبی اداروں کو ہدایت جاری کی گئی ہے کہ وہ اپنے مختص بجٹ کے مطابق ہی ادویات کی خریداری کریں اور مالی نظم و ضبط کو یقینی بنائیں۔
محکمہ صحت کے مطابق ان اقدامات کا مقصد مریضوں کی ضروریات کے مطابق ادویات کی بروقت فراہمی کو بہتر بنانا اور دستیاب وسائل کے مؤثر استعمال کو یقینی بنانا ہے۔ مزید برآں، تمام متعلقہ اداروں کو پابند کیا گیا ہے کہ وہ اپنی کارکردگی سے متعلق رپورٹس باقاعدگی سے ڈائریکٹوریٹ ہیلتھ کو ارسال کریں تاکہ شفافیت اور احتساب کے عمل کو مضبوط بنایا جا سکے۔