تہران: ایرانی صدر مسعود پزشکیان نے امریکا اور اسرائیل کے ساتھ جاری کشیدگی کے خاتمے کے لیے آمادگی ظاہر کرتے ہوئے واضح کیا ہے کہ ایران کسی بھی ممکنہ امن عمل کے لیے ٹھوس یقین دہانی چاہتا ہے کہ مستقبل میں دوبارہ تنازع جنم نہیں لے گا۔
غیر ملکی میڈیا رپورٹس کے مطابق صدر پزشکیان نے یہ مؤقف یورپی کونسل کے صدر انتونیو کوستا سے ٹیلیفونک رابطے کے دوران پیش کیا۔ گفتگو میں ایرانی صدر نے اس بات پر زور دیا کہ پائیدار امن کے لیے ضروری ہے کہ مخالف فریق کی جانب سے واضح ضمانت فراہم کی جائے۔
ایرانی صدر نے جاری جنگی صورتحال میں عوامی ردعمل کو سراہتے ہوئے کہا کہ قوم نے مشکل وقت میں غیر معمولی اتحاد اور یکجہتی کا مظاہرہ کیا ہے، جو قابل تحسین ہے۔
دوسری جانب ایرانی وزیر خارجہ عباس عراقچی بھی اس سے قبل واضح کر چکے ہیں کہ تہران محض عارضی جنگ بندی کا خواہاں نہیں بلکہ وہ تنازع کے مکمل اور دیرپا حل کو ترجیح دیتا ہے۔
عرب میڈیا کو دیے گئے ایک انٹرویو میں عباس عراقچی نے انکشاف کیا کہ امریکی نمائندہ خصوصی کی جانب سے ایران کو براہ راست پیغامات موصول ہو رہے ہیں، تاہم باضابطہ مذاکرات کا آغاز نہیں ہوا۔ انہوں نے یہ بھی بتایا کہ سکیورٹی سے متعلق محدود سطح پر رابطے پاکستان کے ذریعے جاری ہیں۔
ادھر پاسدارانِ انقلاب ایران نے سخت ردعمل دیتے ہوئے خبردار کیا ہے کہ اگر ایرانی قیادت کو نشانہ بنانے کی کوششیں جاری رہیں تو ایران امریکی ٹیکنالوجی کمپنیوں کے خلاف اقدامات اٹھا سکتا ہے۔