تہران: امریکا اور اسرائیل کی جانب سے ایران کے دارالحکومت تہران سمیت مختلف شہروں پر فضائی حملوں کے باوجود ملک بھر میں عوام کی بڑی تعداد حکومت کے حق میں سڑکوں پر نکل آئی اور بھرپور یکجہتی کا اظہار کیا۔
رپورٹس کے مطابق گزشتہ شب ہونے والے مظاہروں میں ایرانی صدر مسعود پزشکیان اور وزیر خارجہ عباس عراقچی نے بھی شرکت کی۔ دونوں رہنماؤں نے عام شہریوں کے ہمراہ ریلی میں شرکت کرتے ہوئے قومی اتحاد کا پیغام دیا۔
صدر مسعود پزشکیان کی مظاہرے میں آمد پر شرکاء نے پرجوش نعرے لگائے اور انقلاب ایران کے حق میں آواز بلند کی۔ اس موقع پر شہریوں، خواتین اور نوجوانوں نے صدر کو پھول پیش کیے اور ان سے بھرپور اظہارِ یکجہتی کیا۔
دارالحکومت کے مرکزی مقام ولی عصر چوک میں ہونے والے مظاہروں کے دوران شرکاء نے پاکستانی عوام سے اظہارِ تشکر بھی کیا۔ مظاہرین کی جانب سے اردو زبان میں تحریر شدہ پلے کارڈز اٹھائے گئے جن پر پاکستان کے لیے حمایت اور خیرسگالی کے پیغامات درج تھے۔
تجزیہ کاروں کے مطابق حالیہ کشیدگی کے باوجود عوامی سطح پر حکومتی حمایت کے یہ مظاہرے ایران میں داخلی اتحاد اور مزاحمتی بیانیے کی مضبوطی کی عکاسی کرتے ہیں۔