کابینہ کمیٹی سے مستقل ہونے والے سول افسران کے لیے بری خبر ہے کہ وفاقی حکومت نے وزارت قانون کی رائے آنے پر اہم اور بڑا فیصلہ کر لیا۔ فیڈرل پبلک سروس کمیشن کی پوسٹوں پر تعینات افسران کو فارغ کر دیا گیا، سپریم کورٹ نے کابینہ کمیٹی کی جانب سے کنٹریکٹ پر کام کرنے والے گریڈ سولہ اور اس سے اوپر سول سرونٹس کو ریگولر کرنے کا حکم غیر قانونی قرار دے دیا ہے۔ اسٹیبلشمنٹ ڈویژن نے وزارت قانون سے رائے لینے کے بعد تمام وزارتوں اور ڈویژن کو سپر یم کورٹ کے فیصلہ پر عمل درآمد کرنے کا حکم دے دیا ہے۔ اس فیصلے سے مختلف وزارتوں، ڈویژن میں سول سرونٹ کی پوسٹوں پر مستقل ہونے والےسینکڑوں افسران متاثر ہوں گے۔ اسٹیبلشمنٹ ڈویژن نے باضابطہ آ فس میمورنڈم جاری کردیا ہے۔ اسٹیبلشمنٹ ڈویژن نے سپر یم کورٹ کا 13 ستمبر 2024 کے فیصلہ کی کاپی بھیجی ہے۔ اسٹیبلشمنٹ ڈویژن نے رولز آف بزنس 1973 کے رول14 کے تحت وزارت قانون و انصاف سے رائے لی تھی۔ وزارت قانون نے رائے دی ہے کہ سپریم کورٹ آ ف پاکستان نے تیرہ ستمبر 2024 کے فیصلہ میں جامع انداز سے نہ صرف سول سرونٹس ایکٹ کی تشریح کردی ہے بلکہ وفاقی پبلک سروس کمیشن آرڈیننس1977 اور سول سرونٹس کے تقرری۔ ترقی اور ٹرانسفر سے متعلق رولز کی بھی وضاحت کر دی ہے۔ سپر یم کورٹ نے آئین کے آرٹیکل 189 کے تناظر میں موثر طریقے سے احاطہ کیا ہے۔ یہ فیصلہ تمام اتھارٹیز، ماتحت عدالتوں اور ٹریبونلز کیلئے ایک رہنما اصول ہے۔ اسٹیبلشمنٹ ڈویژن نے تمام وزارتوں اور ڈویژنوں کو ہدایت کی ہے کہ سپریم کورٹ کے فیصلہ پر ا س کی روح کے مطابق عمل درآمد کو یقینی بنا یا جا ئے۔ ذرائع کے مطابق کابینہ کی سب کمیٹی سے مستقل ہونے والے گریڈ سولہ اور اس کے اوپر کے افسران کو اپنی فٹنس اور اہلیت کے تعین کیلئے وفاقی پبلک سروس کمیشن سے رجوع کرنا پڑے گا۔ مستقل ہونے والے افسران سول سرونٹ ایکٹ اور ایف پی ایس سی کے قانون کی خلاف ورزی قرار دیے جانے کے مطابق ان کی موجودہ حیثیت غیر قانونی ہو گئی ہے۔ کابینہ کمیٹی سے مستقل ہونے والے تمام افسران کے کیسز ایف پی ایس سی کو بھیجے جائیں گے۔ اپف پی ایس سی تمام اُمیدواروں کے ٹیسٹ اور انٹرویو دوبارہ کرے گی۔ تمام سیکرٹریز اپنے اپنے محکموں میں ایف پی ایس سی کی پوسٹوں پر مستقل ہونے والے افسران کے کیسز ایف پی ایس سی کو فوری ارسال کریں گے۔فیصلے سے بورڈ اف امیگریشن، ایف ائی اے، اسٹیٹ افس، فیڈرل ایجوکیشن، فیڈرل سیڈ سرٹفکیشن، پاسپورٹ افس، دیگر محکموں کے افسران متاثر ہوں گے۔ ایف پی ایس سی تمام امیدواروں کے دوبارہ فٹنس، اہلیت کا جائزہ لے گا۔اسٹبلیشمنٹ ڈویژن کے اس فیصلے کا اطلاق صرف سول پوسٹ/ ایف پی ایس سی کی سیٹوں پر ہو گا۔ خود مختار ادارے، کارپوریشن، اتھارٹیز پر اس فیصلے کا اطلاق نہیں ہو گا۔ ذرائع کے مطابق اسلام آ باد ہائی کورٹ نے فیصلہ سنایا تھا کہ ریگو لرائزیشن کے کیسز ایف پی ایس سی کو بھیجے جائیں۔ بیورو آف امیگریشن اور دیگر محکموں سے تعلق رکھنے والے در خواست دہندگان نے اپیل کی جو آئی سی اے نے مسترد کردی۔ محسن رضا گوندل، سید الطاف حیدر شاہ، کامران نواز، فرقان قریشی اور محمد اسرار وغیرہ نے اسلام آ باد ہائی کورٹ کے فیصلہ کو سپریم کورٹ میں چیلنج کیا ۔ سپریم کورٹ نے بھی یہ اپیلیں مسترد کر دیں۔ سپریم کورٹ نے قرار دیا کہ کابینہ کمیٹی کو یہ اختیار نہیں تھا کہ وہ ریگولرائز کرتی۔ کابینہ کمیٹی کے پاس صرف گریڈ ایک سے پندرہ کے ملازمین کو مستقل کرنے کا اختیار تھا۔ گریڈ ایک سے پندرہ تک کے ملازمین کو ریگولر کرنا وزارتوں کا اختیار ہے لیکن گریڈ سولہ اور اس سے اوپر کے کیسز کو ریگولر کرنا غلط تھا۔کابینہ کمیٹی نے اپنے اختیارات سے تجاوز کیا۔ یہ کیسز ایف پی ایس سی کو ہی بھیجنے چاہئیں۔