حسبان میڈیا - Hasban Media Logo
سرکاری اداروں میں نامزد پبلک انفارمیشن آفیسرز کے ای میل پتے ناقابلِ رسائی ہونے کا انکشاف Home / پاکستان /

سرکاری اداروں میں نامزد پبلک انفارمیشن آفیسرز کے ای میل پتے ناقابلِ رسائی ہونے کا انکشاف

ایڈیٹر - 13/02/2025
سرکاری اداروں میں نامزد پبلک انفارمیشن آفیسرز کے ای میل پتے ناقابلِ رسائی ہونے کا انکشاف

پشاور: (فیاض علی نور) صوبائی دارلخلافہ میں بیشتر  سرکاری محکموں اور عہدیداروں کے ای میل پتے ناکارہ یا غلط ثابت ہونے کا انکشاف ہوا ہے  جس کے باعث عوامی رابطے اور شفافیت کے حکومتی دعوے مشکوک ہو گئے ہیں۔

 

 متعدد شہریوں اور صحافیوں کو سرکاری محکموں سے رابطہ کرنے میں مشکلات کا سامنا ہے، کیونکہ خیبر پختون خوا انفارمیشن کمیشن کو مہیا کردہ پبلک انفارمیشن آفیسر کی جانب سے  دیے گئے ای میل ایڈریس یا تو موجود نہیں، ان کے ڈومینز غلط ہیں، یا سرورز سے رابطہ ممکن نہیں۔ان ناکارہ ای میلایڈریس میں شامل  سرکاری اداروں کے پی آئی او pio@pkha.gov.pkاور  ، info@pkha.gov.pk شامل ہیں جبکہ تعلیمی اداروں میں establishment@sbbwu.ed.pk شہید بے نظیر بحٹو  خواتین یونیورسٹی، info@kpkins.edu.com (انسٹی ٹیوٹ آف نیوٹریشن سائنسز بھی ناقابل رسائی پائے گئے۔ اس طرح dfowildlifeheadquarter@gmail.com (محکمہ جنگلات) cmv.bldg1@cwd.gkp.pk (سویلین ورکس ڈیپارٹمنٹ)
transporipeshavar8@gmail.com (ٹرانسپورٹ محکمہ)kpsidb.gov.pk (خیبر پختونخوا سوشل انفراسٹرکچر ڈویلپمنٹ بورڈ) کے ای  یل بھی ناکارہ پائے گئے۔ دیگر سرکاری عہدیداران جن میں shaukatsost@gmail.com، 
abidurehmanshah13@gmail.com،      anwerabseen@gmail.com ، engrimiaz84@gmail.com
amediaho@wsspeshawar.org.pk اور  dsadmin@kp.gov.pk شامل ہیں ۔ اس ضمن میں  میڈیا نمائندوں کا کہنا ہے کہ جب وہ ان ای میل پتوں پر اپنی شکایات یا معلومات کی درخواست بھیجتے ہیں تو انہیں ڈیلیوری فیل ہونے کے پیغامات موصول ہوتے ہیں۔ 

 

اس صورتحال نے عوام میں شدید بےچینی پیدا کر دی ہے اور یہ سوالات جنم لے رہے ہیں کہ آیا سرکاری محکمے عوامی رابطے میں سنجیدہ بھی ہیں یا نہیں ؟ ایک المیہ یہ بھی ہے کہ  کئی سرکاری ادارے جی میل جیسے عام پلیٹ فارمز پر انحصار کر رہے ہیں جو کسی بھی طرح ایک پیشہ ورانہ عمل نہیں۔ اس کے علاوہ کچھ ای میل ڈومینز جیسے sbbwu.ed.pk اور kpkins.edu.com سرور پر موجود ہی نہیں، جو اداروں کی ڈیجیٹل نااہلی کو ظاہر کرتا ہے۔

 

اس سے ظاہر ہوتا ہے کہ کیا سرکاری ادارے فرضی ای میل پتے استعمال کر رہے ہیں؟ ڈیجیٹل پاکستان کے دعووں کے باوجود انفراسٹرکچر اتنا کمزور کیوں ہے؟کیا یہ غیر ذمہ دارانہ رویہ کرپشن کو چھپانے کی کوشش تو نہیں؟  تاحال کسی بھی سرکاری محکمے نے اس حوالے سے کوئی وضاحت پیش نہیں کی ہے۔ شہریوں اور میڈیا اداروں کا مطالبہ ہے کہ حکومت فوری طور پر اس معاملے کی چھان بین کرے اور ایک مؤثر ڈیجیٹل کمیونیکیشن سسٹم قائم کرے تاکہ عوام کا حقِ معلومات متاثر نہ ہو۔