اسلام آباد: وزیراعظم شہباز شریف کے مشیرِ سیاسی امور رانا ثناء اللہ کا اہم بیان؛ جمیعت علمائے اسلام کے سربراہ مولانا فضل الرحمن کے ساتھ سیاسی تعلقات اور آئینی ترمیم پر کھل کر گفتگو
وزیراعظم شہباز شریف کے مشیر برائے سیاسی امور اور مسلم لیگ (ن) کے سینئر رہنما رانا ثناء اللہ نے جمیعت علمائے اسلام (ف) کے سربراہ مولانا فضل الرحمن کے ساتھ تعلقات اور موجودہ سیاسی صورتحال پر ایک اہم اور وضاحتی بیان جاری کیا ہے۔ ایک حالیہ انٹرویو میں انہوں نے واضح کیا ہے کہ مولانا فضل الرحمن کے ساتھ مسلم لیگ (ن) کی ہمیشہ سے اچھی یادیں وابستہ ہیں اور انہوں نے مشکل وقت میں ہمیشہ ن لیگ کا ساتھ دیا ہے۔ رانا ثناء اللہ نے اعتراف کیا کہ سیاسی جماعتوں کے مابین بعض اوقات ایسی صورتحال پیدا ہو جاتی ہے لیکن اس میں پریشانی کی کوئی بات نہیں ہے، اور پارٹی کی اب بھی یہی کوشش ہوگی کہ تمام تر تلخ کلامی کو روکا جائے۔
رانا ثناء اللہ نے ماضی کے سیاسی منظرنامے کا حوالہ دیتے ہوئے کہا کہ پی ڈی ایم (PDM) کے دور میں مولانا صاحب کے ساتھ ہمارے بہترین ورکنگ ریلیشنز رہے ہیں۔ انہوں نے صراحت کی کہ اگر مولانا فضل الرحمن نے ریاست یا شہداء کے حوالے سے کچھ تلخ باتیں کی تھیں، تو ہماری جانب سے بھی ان چیزوں کا بھرپور طریقے سے جواب دیا گیا تھا، تاہم اب اس باب کو بند کر کے آگے بڑھنے کی ضرورت ہے۔ مسلم لیگ (ن) کے رہنما کا کہنا تھا کہ اب بھی حکومت کی یہی سنجیدہ کوشش ہے کہ مولانا صاحب کے ساتھ دوبارہ سر جوڑ کر بیٹھا جائے اور تمام تصفیہ طلب مسائل کو مذاکرات کے ذریعے دوستانہ ماحول میں حل کیا جائے۔
مستقبل کی قانون سازی اور آئینی اصلاحات پر گفتگو کرتے ہوئے وزیراعظم کے مشیرِ سیاسی امور نے ایک اہم انکشاف کیا۔ انہوں نے بتایا کہ 28ویں آئینی ترمیم کا مسودہ ابھی تک حتمی طور پر فائنل نہیں ہوا ہے۔ رانا ثناء اللہ کا کہنا تھا کہ جب بھی 28ویں ترمیم کا یہ قانونی مسودہ پارلیمنٹ کے سامنے پیش کیا جائے گا، تو اس پر تمام اسٹیک ہولڈرز اور سیاسی جماعتوں کے مابین تفصیلی بحث و تمحیص ہوگی اور اتفاقِ رائے پیدا کرنے کی کوشش کی جائے گی تاکہ قانون سازی کو آئینی اور پارلیمانی اصولوں کے مطابق آگے بڑھایا جا سکے۔