پشاور: پشاور بس ریپڈ ٹرانزٹ (بی آر ٹی) منصوبے میں 32 ارب روپے کی مبینہ کرپشن کا انٹرنیشنل نیٹ ورک بے نقاب، رقم پی ٹی آئی اکاؤنٹس میں منتقل ہونے کا دعویٰ
عوامی نیشنل پارٹی (اے این پی) کے مرکزی رہنما ایمل ولی خان نے خیبر پختونخوا کے فلیگ شپ ٹرانسپورٹ منصوبے 'پشاور بی آر ٹی' (BRT) میں اربوں روپے کی مبینہ مالی بے ضابطگیوں اور منی لانڈرنگ کے حوالے سے سنسنی خیز اور ہائی پروفائل انکشافات کیے ہیں۔ انہوں نے دعویٰ کیا ہے کہ پشاور بی آر ٹی منصوبے کی تعمیر اور ٹھیکوں کے دوران مجموعی طور پر 32 ارب روپے کی خطیر رقم کی کرپشن کی گئی، جس کے تانے بانے بین الاقوامی مالیاتی نیٹ ورکس سے ملتے ہیں۔
ایمل ولی خان نے کرپشن کے مبینہ طریقہ کار کی تفصیلات بتاتے ہوئے انکشاف کیا کہ اس میگا پراجیکٹ میں کک بیکس اور کمیشن کی مد میں بھاری ادائیگیاں پاکستان کے بجائے دبئی میں کی گئیں۔ انہوں نے مزید الزام عائد کیا کہ دبئی میں وصول کی جانے والی یہ غیر قانونی رقم بعد ازاں مختلف چینلز کے ذریعے امریکہ منتقل کی گئی، جہاں سے اس فنڈنگ کو گھما کر پاکستان تحریکِ انصاف (پی ٹی آئی) کے مختلف بینک اکاؤنٹس میں جمع کرایا گیا۔ اے این پی کے رہنما کا مؤقف ہے کہ یہ پورا عمل سوچی سمجھی فارن فنڈنگ اور منی لانڈرنگ کا کلاسک کیس ہے۔