ہر شخص کا اپنا منصب، اپنا کردار اور اپنی ذمہ داری ہے۔
صاحبزادہ بہاؤالدین سے:
ہم آج جن حالات، تضادات اور قومی بے سمتی کا سامنا کر رہے ہیں، درحقیقت یہ سب ہمارے اجتماعی رویوں کا نتیجہ ہیں، جن کی سزا آپ، میں اور پوری قوم بھگت رہی ہے۔ ہماری سب سے بڑی بدقسمتی یہ ہے کہ ہم نے اپنی ذمہ داریوں کا تعین کرنے کے بجائے ہر دوسرے شخص کے منصب اور اختیار پر سوال اٹھانا اپنا قومی مشغلہ بنا لیا ہے۔ ہم فوج کو محافظ کہتے ہیں، لیکن اپنے عملی رویوں میں اس کے پیشہ ورانہ فرائض اور ادارہ جاتی ذمہ داریوں کو بھی اپنی پسند و ناپسند کے ترازو میں تولتے ہیں۔ المیہ یہ ہے کہ ہمارے معاشرے میں کوئی خود کو محض طالب علم، استاد، ڈاکٹر، انجینئر، زمیندار یا کاروباری شخص سمجھنے پر آمادہ نہیں۔ ہر شخص بیک وقت سیاست دان، تجزیہ کار، بین الاقوامی امور کا ماہر اور قومی سلامتی کا دانشور بن بیٹھا ہے۔ دنیا کے کسی بھی کونے میں کوئی تنازعہ جنم لے تو ہم یہاں بیٹھ کر فریق بن جاتے ہیں اور چند لمحوں میں جہاد کے فتوے، غداری کے سرٹیفکیٹ اور وفاداری کے پیمانے تقسیم کرنا شروع کر دیتے ہیں۔
ایک مہذب معاشرے میں والدین اپنی اولاد کو حصولِ تعلیم کے لیے تعلیمی اداروں میں بھیجتے ہیں تاکہ وہ علم، شعور اور پیشہ ورانہ مہارت حاصل کرکے معاشرے کا مفید شہری بن سکیں۔ طالب علم کی بنیادی ذمہ داری سوال کرنا ضرور ہے، مگر سوال کا مقصد علم حاصل کرنا، حقیقت تک پہنچنا اور اپنی فکری صلاحیت کو پروان چڑھانا ہونا چاہیے، نہ کہ ادھوری معلومات اور سیاسی نعروں کی بنیاد پر کسی مخصوص بیانیے کا ترجمان بن جانا۔ ڈاکٹر کی شناخت اس کی طبی مہارت، انجینئر کی پہچان اس کی فنی قابلیت اور استاد کا مقام اس کی علمی خدمات سے ہوتا ہے۔ تعلیم مکمل کرنے کے بعد ہر شخص کو اپنے منتخب کردہ شعبے میں مہارت اور خدمات کا مظاہرہ کرنا چاہیے۔ اگر کوئی انجینئر سیاست میں آنا چاہتا ہے تو یہ اس کا آئینی اور جمہوری حق ہے، لیکن اس کے لیے بھی ضروری ہے کہ وہ اپنی پیشہ ورانہ شناخت اور سیاسی کردار کے تقاضوں کو سمجھے۔ آزادیِ اظہار کا مطلب یہ ہرگز نہیں کہ ہر شخص ہر شعبے کا ماہر بھی خود کو سمجھے اور ہر ادارے کے فرائض کا فیصلہ بھی خود ہی کرنے لگے۔
آج ہمارے تعلیمی اداروں میں زیرِ تعلیم نوجوانوں کے ذہنوں میں بعض اوقات ایسے سوالات اور سیاسی تنازعات اس انداز میں منتقل کیے جا رہے ہیں کہ ان کی اصل تعلیمی ترجیحات پس منظر میں چلی جاتی ہیں۔ فلاں شخص کو جیل میں کیوں ڈالا گیا؟ فلاں کو غدار کیوں قرار دیا گیا؟ فلاں کو کیوں مارا گیا؟ یہ یقیناً اہم سوالات ہیں اور کسی بھی شہری کو ان کے جواب جاننے کا حق حاصل ہے۔ لیکن ان سوالات کے جوابات تحقیق، شواہد، قانون اور غیر جانب دارانہ مطالعے سے تلاش کیے جانے چاہئیں، نہ کہ کسی سیاسی جماعت کے بیانیے کو حرفِ آخر سمجھ کر۔ سوال کرنے کا حق صرف طالب علم کو نہیں بلکہ ہر شہری کو حاصل ہے، اور ریاستی ادارے بھی عوام کے سامنے قانون اور آئین کے تابع جواب دہ ہیں۔ تاہم جواب دہی اور اداروں کی تضحیک، تنقید اور پیشہ ورانہ فرائض میں غیر ضروری مداخلت کے درمیان فرق سمجھنا بھی ضروری ہے۔ کیا ہم یہ توقع رکھتے ہیں کہ فوج اپنے فرائض انجام دینے کے بجائے ہر وقت سیاسی بحثوں اور عوامی سوشل میڈیا ٹرائلز کا جواب دیتی رہے؟ کیا فوج میں خدمات انجام دینے والے جوان اور افسران اسی قوم کے فرزند نہیں؟ کیا اعلیٰ عسکری مناصب تک پہنچنے والے ہمارے ہونہار نوجوانوں کی محنت، قابلیت، قربانی اور پیشہ ورانہ شناخت کا کوئی احترام نہیں ہونا چاہیے؟ اگر کسی دوسرے شعبے سے وابستہ شخص کو اپنے کام کے حوالے سے عزت، خودمختاری اور پیشہ ورانہ وقار عزیز ہے تو یہی حق فوج کے افسر اور جوان کو بھی حاصل ہے۔
ہمیں یہ بنیادی حقیقت تسلیم کرنا ہوگی کہ کسی بھی ریاست کا استحکام اداروں کے باہمی احترام، آئینی حدود، پیشہ ورانہ خودمختاری اور ذمہ داریوں کی واضح تقسیم سے وابستہ ہوتا ہے۔ فوج کا کام دفاعِ وطن ہے، عدلیہ کا کام انصاف کی فراہمی، انتظامیہ کا کام حکومتی امور چلانا، سیاست دانوں کا کام عوامی نمائندگی اور قانون سازی، جبکہ تعلیمی اداروں کا کام علم و شعور کی آبیاری ہے۔ ہر ادارہ آئین اور قانون کے تابع ہے اور کسی کو بھی اپنی حدود سے تجاوز کا حق حاصل نہیں۔ فوج پر تنقید بھی ہوسکتی ہے، سیاست دانوں سے جواب طلبی بھی، عدلیہ کے فیصلوں پر علمی بحث بھی اور حکومت کی پالیسیوں پر اختلاف بھی؛ لیکن یہ سب دلیل، شائستگی، حقائق اور آئینی دائرے میں ہونا چاہیے۔ بدقسمتی سے ہم نے اختلافِ رائے کو دشمنی، تنقید کو تضحیک اور سیاسی وابستگی کو قومی وفاداری کا پیمانہ بنا دیا ہے۔
خصوصاً پختون معاشرے کو اس حوالے سے اپنے اجتماعی رویوں پر سنجیدگی سے غور کرنے کی ضرورت ہے۔ ہماری ذہانت، سیاسی شعور، غیرت، بہادری اور حق گوئی اپنی جگہ قابلِ قدر خصوصیات ہیں، لیکن ہر معاملے میں غیر ضروری مداخلت، ہر شعبے پر تبصرہ اور ہر تنازعے میں فریق بننے کا رویہ دانش مندی نہیں۔ دنیا کی ترقی یافتہ اقوام نے اپنی صلاحیتیں اپنے اپنے شعبوں میں مہارت حاصل کرنے، تحقیق، صنعت، تجارت، تعلیم اور ادارہ سازی پر صرف کی ہیں۔ ہمیں بھی یہ سوچنا ہوگا کہ ہماری نئی نسل سیاست کے نعروں اور سوشل میڈیا کی بحثوں میں اپنی قیمتی تعلیمی عمر ضائع کرنے کے بجائے ڈاکٹر، انجینئر، سائنس دان، ماہرِ معیشت، کاروباری شخصیت اور ہنرمند کیوں نہیں بن رہی؟ قومیں صرف سیاسی تقریروں اور تنقیدی تبصروں سے ترقی نہیں کرتیں، بلکہ اپنے اپنے شعبوں میں ذمہ داری نبھانے والے افراد کے اجتماعی کردار سے ترقی کرتی ہیں۔ وقت آگیا ہے کہ ہم دوسروں کے فرائض پر انگلیاں اٹھانے سے پہلے اپنے گریبان میں جھانکیں، اپنی ذمہ داری پہچانیں اور اپنے حصے کا کام پوری دیانت داری سے انجام دیں۔ کیونکہ ایک مضبوط قوم وہ نہیں ہوتی جس میں ہر شخص دوسرے کے کام کا ماہر ہو، بلکہ وہ ہوتی ہے جس میں ہر شخص اپنے کام کا ذمہ دار اور اپنے منصب کا امین ہو۔