حسبان میڈیا - Hasban Media Logo
معزول وزیر اعلیٰ خیبر پختونخوا سہیل آفریدی کے خلاف اربوں روپے کی کرپشن کے شواہد حاصل۔ Home / سیاست /

معزول وزیر اعلیٰ خیبر پختونخوا سہیل آفریدی کے خلاف اربوں روپے کی کرپشن کے شواہد حاصل۔

ایڈیٹر - 31/10/2026
معزول وزیر اعلیٰ خیبر پختونخوا سہیل آفریدی کے خلاف اربوں روپے کی کرپشن کے شواہد حاصل۔

پشاور: خیبر پختونخوا حکومت کی بڑی کارروائی، معزول وزیر اعلیٰ سہیل آفریدی کے خلاف اربوں روپے کی کرپشن کے شواہد حاصل، وارنٹ جاری

خیبر پختونخوا کے سیاسی منظرنامے میں ایک بڑا ہلچل خیز موڑ اس وقت سامنے آیا ہے جب صوبائی حکومت نے معزول وزیر اعلیٰ سہیل آفریدی کے خلاف اربوں روپے کی مبینہ کرپشن اور سنگین مالی بے ضابطگیوں کے ٹھوس شواہد حاصل کرنے کا دعویٰ کیا ہے۔ حکومتِ خیبر پختونخوا کے ترجمان کے مطابق، معزول وزیر اعلیٰ کے خلاف قانونی کارروائی کا آغاز کرتے ہوئے ان کے وارنٹِ گرفتاری بھی جاری کر دیے گئے ہیں، تاہم تاحال ان کی باقاعدہ گرفتاری عمل میں نہیں لائی گئی۔ صوبائی انتظامیہ کا کہنا ہے کہ سابق وزیر اعلیٰ اس وقت حفاظتی تحویل میں اور مکمل طور پر 'محفوظ ہاتھوں' میں ہیں، جہاں ان کا باقاعدہ خیال رکھا جا رہا ہے۔

ذرائع کے مطابق، خیبر پختونخوا حکومت نے سہیل آفریدی کے دورِ حکومت میں ہونے والے تمام ترقیاتی منصوبوں اور انتظامی امور کا ریکارڈ تمام متعلقہ محکموں سے ہنگامی بنیادوں پر طلب کر لیا ہے۔ صوبائی حکومت کا مؤقف ہے کہ ابتدائی انکوائری اور دستاویزی شواہد کی اسکروٹنی مکمل ہونے کے بعد یہ تمام ہائی پروفائل کیسز مزید کارروائی کے لیے قومی احتساب بیورو (نیب) اور اینٹی کرپشن اسٹیبلشمنٹ کو بھیجے جائیں گے۔ اس سلسلے میں صوبے کے فلیگ شپ پروگرام 'صحت کارڈ' میں ہونے والی مبینہ کرپشن، فنڈز کے غلط استعمال اور دیگر بے ضابطگیوں کا خاص طور پر گہرائی سے جائزہ لیا جا رہا ہے تاکہ مالی نقصانات کا درست تعین کیا جا سکے۔

دوسری جانب، صوبائی حکومت نے موجودہ سیاسی صورتحال پر تبصرہ کرتے ہوئے انکشاف کیا ہے کہ جمیعت علمائے اسلام (ف) کے سربراہ مولانا فضل الرحمٰن موجودہ ٹیکنوکریٹ حکومتی سیٹ اپ سے شدید ناراض ہیں۔ حکومتی ذرائع کا دعویٰ ہے کہ مولانا فضل الرحمٰن کی اس ناراضگی کی بنیادی وجہ موجودہ ٹیکنوکریٹ سیٹ اپ میں ان کی جماعت کو متوقع حصہ نہ ملنا ہے۔ سیاسی ماہرین کا ماننا ہے کہ ایک طرف معزول وزیر اعلیٰ کے خلاف کرپشن کے بڑے کیسز اور دوسری طرف اہم سیاسی اسٹیک ہولڈرز کی ناراضگی کے باعث صوبے کی سیاست آنے والے دنوں میں مزید گرما گرمی کا شکار ہو سکتی ہے۔