حسبان میڈیا (ویب ڈیسک): ایرانی وزیر خارجہ عباس عراقچی نے اسرائیلی وزیراعظم بنیامین نیتن یاہو کے ایک خطاب کا حوالہ دیتے ہوئے الزام عائد کیا ہے کہ انہوں نے اسرائیل کے مفاد میں امریکا کو ایران کے خلاف جنگ میں شامل کرنے کے لیے گمراہ کیا۔
عباس عراقچی نے سماجی رابطے کی ویب سائٹ پر بنیامین نیتن یاہو کے خطاب کی ویڈیو شیئر کرتے ہوئے دعویٰ کیا کہ اسرائیلی وزیراعظم نے عبرانی زبان میں گفتگو کے دوران اس بات کا اعتراف کیا کہ انہوں نے امریکا کو ایران کے خلاف جنگ میں شامل ہونے پر آمادہ کرنے کے لیے بھرپور کوشش کی۔
ایرانی وزیر خارجہ کے مطابق نیتن یاہو نے اپنے خطاب میں اس بات کا بھی ذکر کیا کہ انہیں امریکی رائے عامہ پر اثر انداز ہونے کے لیے امریکی ٹی وی نیٹ ورکس پر تقریباً 1,000 گھنٹے کی نشریاتی جگہ ملی۔
عباس عراقچی نے الزام لگایا کہ اسرائیلی وزیراعظم اس بات پر اظہارِ مسرت کرتے دکھائی دیتے ہیں کہ انہوں نے امریکی میڈیا کے ذریعے ایران کے خلاف کارروائی کے حوالے سے امریکا میں رائے عامہ کو کس طرح متاثر کیا، جبکہ انگریزی زبان میں گفتگو کے دوران وہ امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کی تعریف کرتے نظر آتے ہیں۔
ایرانی وزیر خارجہ نے اپنے بیان میں نیتن یاہو کو ’’سانپ‘‘ سے بھی تشبیہ دی۔
دوسری جانب اسرائیلی وزیراعظم بنیامین نیتن یاہو نے اپنے خطاب میں کہا تھا کہ وہ گزشتہ 40 سال سے ایران کے معاملے پر کام کررہے ہیں اور انہیں اسرائیلی سکیورٹی اسٹیبلشمنٹ کو ایران اور اس سے منسلک گروہوں کے خلاف کارروائی کے لیے تیار کرنے میں طویل وقت لگا۔
نیتن یاہو کے مطابق انہیں امریکا کو بھی اپنے مؤقف پر قائل کرنے میں خاصا وقت لگا۔ انہوں نے کہا تھا کہ امریکی عوام اور فیصلہ سازوں کو اپنے مؤقف سے آگاہ کرنے کے لیے انہیں امریکی ٹی وی پر تقریباً 1,000 گھنٹے کی نشریاتی کوریج حاصل ہوئی۔
ایرانی وزیر خارجہ کی جانب سے نیتن یاہو کے اس خطاب کی تشریح ایسے وقت میں سامنے آئی ہے جب ایران اور اسرائیل کے درمیان کشیدگی اور خطے میں امریکی کردار کے حوالے سے سخت بیانات کا سلسلہ جاری ہے۔