پشاور (نیوزرپورٹر): خیبر پختونخوا کے صوبائی دارالحکومت پشاور میں غیر قانونی طور پر مقیم افغان شہریوں کے خلاف قانون نافذ کرنے والے اداروں نے بڑے پیمانے پر گرینڈ کریک ڈاؤن کا فیصلہ کیا ہے، جس کے تحت شہر بھر میں "گھر گھر آپریشن" کا آغاز کیا جا رہا ہے۔ سرکاری ذرائع کے مطابق، پشاور میں مقیم 10 لاکھ سے زائد غیر قانونی افغان مہاجرین کی مکمل اور جامع تفصیلات مرتب کر لی گئی ہیں جن کے خلاف انتہائی سخت اور تادیبی کارروائی عمل میں لائی جائے گی۔
سرکاری اور ذمہ دار ذرائع کا کہنا ہے کہ اس بڑے آپریشن کو حتمی شکل دے دی گئی ہے اور کسی بھی ناخوشگوار صورتحال سے بچنے کے لیے یہ کارروائیاں رات کے اوقات میں کی جائیں گی۔ رپورٹ کے مطابق، ویزا کی مدت ختم ہونے کے بعد بھی پاکستان میں قیام پذیر افراد کی تعداد صوبے میں 10 ہزار کے قریب ہے، جبکہ افغانستان سے اسٹوڈنٹ ویزے پر آ کر پشاور کے مختلف مدارس اور تعلیمی اداروں میں زیرِ تعلیم تقریباً 3 ہزار طلبہ کی فہرستیں بھی وفاقی تحقیقاتی ادارے (FIA) کے حوالے کر دی گئی ہیں تاکہ ان کے کوائف کی باریک بینی سے جانچ پڑتال کی جا سکے۔
سرکاری ذرائع کے مطابق، قانون نافذ کرنے والے اداروں اور پولیس کو خفیہ رپورٹس ارسال کر دی گئی ہیں، جن میں پشاور کے ان مخصوص علاقوں کی نشاندہی کی گئی ہے جہاں غیر قانونی افغان مہاجرین کی بڑی تعداد رہائش پذیر ہے۔ ان علاقوں میں پشاور کا بورڈ، ناصر باغ روڈ، ناصر باغ، افغان کالونی، رنگ روڈ، لطیف آباد، بشیر آباد، عید گاہ کالونی، زرگر آباد اور اس کے گردونواح کے علاقے شامل ہیں۔
اس کے علاوہ چارسدہ روڈ، پشاور یونیورسٹی کے ملحقہ علاقوں، نمک منڈی اور نواز آباد سمیت دیگر کئی رہائشی علاقوں میں بھی غیر قانونی طور پر مقیم افراد کی بستیوں کی مکمل نشان دہی کر لی گئی ہے۔ پولیس اور دیگر قانون نافذ کرنے والے اداروں نے ان علاقوں کا محاصرہ کرنے اور مرحلہ وار گرینڈ آپریشن شروع کرنے کے لیے سیکیورٹی پلان کو حتمی شکل دے دی ہے۔