پشاور / اسلام آباد: خیبرپختونخوا حکومت نے وفاقی حکومت کی جانب سے وفاقی مالیاتی منتقلی میں 6.4 ارب روپے کی مجوزہ کٹوتی کی ہدایت کو یکسر مسترد کرتے ہوئے صوبے کے مالیاتی حقوق پر کسی بھی قسم کا سمجھوتہ نہ کرنے کا اعلان کیا ہے۔ وزیراعلیٰ خیبرپختونخوا سہیل آفریدی کے مطابق، یہ معاملہ محض ایک سیاسی اختلاف نہیں بلکہ صوبے کے آئینی اور مالیاتی حقوق کا مقدمہ ہے، جس کے تحفظ کے لیے صوبائی حکومت ہر قانونی اور آئینی راستہ اختیار کرے گی۔ حکومتِ مقدمہ کو وفاقی آئینی عدالت میں بھی لے جایا جا چکا ہے تاکہ قومی مالیاتی کمیشن (NFC) کے تحت صوبے کا جائز حق حاصل کیا جا سکے۔
وزیراعلیٰ سہیل آفریدی نے معاملے کی تفصیلات بتاتے ہوئے انکشاف کیا کہ بجٹ سے قبل وفاق نے خیبرپختونخوا سے اضافی رقم کا تقاضہ کیا تھا۔ فیڈرل بورڈ آف ریونیو (FBR) کا 15 ہزار 260 ارب روپے کا ہدف پورا ہونے کی صورت میں صوبے کا حصہ 175 ارب روپے بنتا تھا۔ صوبائی حکومت نے اس اضافی رقم کی فراہمی کو بانی پی ٹی آئی عمران خان سے ملاقات اور ان کی حتمی اجازت سے مشروط کیا تھا۔ تاہم، وفاق کی جانب سے بانی پی ٹی آئی سے ملاقات نہ کرائے جانے کے باعث مفاہمتی یادداشت (MoU) پر دستخط نہیں کیے گئے، اور اسی بنیاد پر مالی سال 27-2026 کے صوبائی بجٹ میں اس وفاقی گرانٹ کو شامل نہیں کیا گیا۔
سرکاری دستاویزات کے مطابق، 5 اگست کو وفاقی وزارتِ خزانہ نے خیبرپختونخوا کو واجب الادا رقم سے 6.4 ارب روپے کی براہِ راست کٹوتی کی تجویز دی، جسے کے پی حکومت نے مسترد کر دیا۔ محکمہ خزانہ خیبرپختونخوا نے 13 اگست کو لکھے گئے ایک باضابطہ خط میں اس مجوزہ کٹوتی پر اپنی عدم رضامندی واضح کر دی تھی۔ وزیراعلیٰ کا مؤقف ہے کہ آئین کا آرٹیکل 164 وفاق کو صوبوں کی واجب الادا رقوم میں یکطرفہ کٹوتی کا کوئی اختیار نہیں دیتا اور ایسی کسی بھی کارروائی کے لیے صوبائی حکومت کی باقاعدہ رضامندی اور قانونی جواز لازمی ہے۔
اس سنگین صورتحال کے پیشِ نظر، صوبائی مشیرِ خزانہ مزمل اسلم نے اکاؤنٹنٹ جنرل خیبرپختونخوا کے متعلقہ افسران سے ہنگامی ملاقات کی ہے، جس میں صوبے کی تحریری منظوری کے بغیر کسی بھی قسم کی کٹوتی نہ کرنے کی سخت ہدایات جاری کی گئی ہیں۔ مزید برآں، اکاؤنٹنٹ جنرل پاکستان ریونیو (AGPR) کو بھی مطلع کر دیا گیا ہے کہ وہ صوبائی حکومت کی واضح رضامندی کے بغیر کوئی بھی لین دین درج یا نافذ نہ کریں۔ وزیراعلیٰ نے عزم ظاہر کیا ہے کہ خیبرپختونخوا حکومت اپنے مالیاتی حصے کے ایک ایک روپے کا دفاع کرے گی اور غیر منظور شدہ مفاہمتی یادداشت کی بنیاد پر وفاق کو یکطرفہ رقم منہا کرنے کی اجازت نہیں دی جائے گی۔