ضلع مہمند میں غیر معیاری چپس، پاپڑ، آئس کریم اور دیگر ناقص اشیائے خورونوش کی سرعام فروخت کا سلسلہ جاری ہے، جبکہ شہریوں کے مطابق متعلقہ محکموں کی مؤثر نگرانی نہ ہونے کے باعث مضرِ صحت اشیاء کی سپلائی اور فروخت میں مسلسل اضافہ ہو رہا ہے۔
ذرائع کے مطابق غیر معیاری چپس اور پاپڑ سے بھری گاڑیاں مختلف شاہراہوں کے ذریعے ضلع کے مختلف علاقوں میں پہنچتی ہیں اور دکانداروں کو سپلائی کی جاتی ہیں۔ بیشتر بازاروں اور چھوٹی بڑی دکانوں پر بچوں کے لیے یہ اشیاء باآسانی دستیاب ہیں، جن کی تیاری، معیار، اجزاء اور حفظانِ صحت کے اصولوں سے متعلق کوئی مؤثر جانچ پڑتال نظر نہیں آتی۔والدین اور شہریوں نے تشویش کا اظہار کرتے ہوئے کہا ہے کہ بچوں میں ناقص اور غیر معیاری خوراک کے استعمال کا رجحان بڑھ رہا ہے، جس سے ان کی صحت متاثر ہونے کا خدشہ ہے۔ شہریوں کا کہنا ہے کہ چند روپے کی کم قیمت کے باعث بچے ایسی اشیاء کی طرف زیادہ راغب ہوتے ہیں، جس کا فائدہ اٹھاتے ہوئے بعض کاروباری عناصر مبینہ طور پر معیار اور صحت کے اصولوں کو نظر انداز کر رہے ہیں۔عوامی حلقوں نے متعلقہ فوڈ سیفٹی حکام اور ضلعی انتظامیہ سے مطالبہ کیا ہے کہ ضلع بھر میں چپس، پاپڑ اور دیگر پیک شدہ خوراک کی دکانوں اور سپلائی گاڑیوں کی اچانک چیکنگ کی جائے، مشکوک اور غیر معیاری اشیاء کے نمونے حاصل کرکے لیبارٹری ٹیسٹ کرائے جائیں اور معیار پر پورا نہ اترنے والی مصنوعات کی فروخت فوری طور پر روکی جائے۔شہریوں نے مزید مطالبہ کیا کہ غیر معیاری خوراک تیار اور سپلائی کرنے والے یونٹس کی نشاندہی کرکے قانون کے مطابق کارروائی کی جائے اور اس امر کو یقینی بنایا جائے کہ بچوں کو مضرِ صحت خوراک کی فروخت سے محفوظ رکھا جا سکے۔دوسری جانب شہریوں نے متعلقہ محکموں سے یہ بھی مطالبہ کیا ہے کہ کارروائی صرف کسی ایک بازار تک محدود رکھنے کے بجائے ضلع بھر میں مستقل بنیادوں پر فوڈ سیفٹی مانیٹرنگ کا نظام قائم کیا جائے تاکہ غیر معیاری اشیائے خورونوش کے کاروبار کا مؤثر سدباب ہو سکے۔