حسبان میڈیا - Hasban Media Logo
وزیراعلیٰ خیبرپختونخوا کی 27 ستمبر سے پہلے حکمرانوں کو وارننگ، ’’انصاف نہ ملا تو حالات قابو سے باہر ہوسکتے ہیں‘‘ Home / سیاست /

وزیراعلیٰ خیبرپختونخوا کی 27 ستمبر سے پہلے حکمرانوں کو وارننگ، ’’انصاف نہ ملا تو حالات قابو سے باہر ہوسکتے ہیں‘‘

ایڈیٹر - 12/08/2026
وزیراعلیٰ خیبرپختونخوا کی 27 ستمبر سے پہلے حکمرانوں کو وارننگ، ’’انصاف نہ ملا تو حالات قابو سے باہر ہوسکتے ہیں‘‘

حسبان میڈیا (ویب ڈیسک): وزیراعلیٰ خیبرپختونخوا محمد سہیل آفریدی نے حکمرانوں اور فیصلہ ساز حلقوں پر زور دیا ہے کہ وہ 27 ستمبر سے قبل ملک میں آئین، قانون اور انصاف کی بالادستی یقینی بنانے کے لیے عملی اقدامات کریں، بصورت دیگر پیدا ہونے والی صورتحال کو کنٹرول کرنا مشکل ہوسکتا ہے۔

سپریم کورٹ کے باہر جاری دھرنے میں شرکت کے موقع پر میڈیا سے گفتگو کرتے ہوئے محمد سہیل آفریدی نے عمران خان کی صحت سے متعلق سامنے آنے والی اطلاعات پر تشویش کا اظہار کیا اور کہا کہ قوم ان کی صحت کے حوالے سے شدید فکرمند ہے۔

وزیراعلیٰ نے کہا کہ عمران خان کی صحت کو سیاسی معاملہ نہیں بنایا جارہا اور خود عمران خان نے بھی اپنی صحت سے متعلق کسی ایسے اقدام کا مطالبہ نہیں کیا جس کا مقصد سیاسی یا ذاتی ریلیف حاصل کرنا ہو۔ ان کے مطابق موجودہ صورتحال میں ضروری ہے کہ عمران خان کی صحت کو سنجیدگی سے لیا جائے اور ان کے اہل خانہ کی موجودگی میں ذاتی معالجین کی نگرانی میں علاج کی سہولت فراہم کی جائے۔

نواز شریف کے علاج کا حوالہ

محمد سہیل آفریدی نے کہا کہ عمران خان کے دورِ حکومت میں سابق وزیراعظم نواز شریف کو علاج کے لیے بیرون ملک جانے کی اجازت دی گئی تھی، حالانکہ اس وقت ان کے طبی سرٹیفکیٹس سے متعلق بھی سوالات اٹھائے گئے تھے۔

ان کے بقول عمران خان اس معاملے سے آگاہ ہونے کے باوجود انسانی ہمدردی کے تحت نواز شریف کو بیرون ملک علاج کی اجازت دینے پر آمادہ ہوئے، لیکن آج عمران خان کو بنیادی انسانی حقوق اور انصاف سے محروم رکھا جارہا ہے، جو انتہائی تشویش ناک صورتحال ہے۔

مخالفین پر سخت الزامات

وزیراعلیٰ خیبرپختونخوا نے دعویٰ کیا کہ عمران خان کو بے بنیاد اور جعلی مقدمات میں قید رکھا گیا ہے، جبکہ ان کے سیاسی مخالفین پر ماضی میں بدعنوانی اور قومی وسائل کے غلط استعمال کے الزامات عائد ہوتے رہے ہیں۔

انہوں نے کہا کہ ظلم اور ناانصافی کرنے والوں کو یہ بات ذہن میں رکھنی چاہیے کہ کوئی بھی شخص اپنے اعمال کے نتائج سے بچ نہیں سکتا اور بالآخر ہر فرد کو اپنے کیے کا حساب دینا ہوگا۔

ججز سے انصاف کے لیے کردار ادا کرنے کا مطالبہ

محمد سہیل آفریدی نے کہا کہ ملک کا نظامِ انصاف اس وقت ایک بڑے امتحان سے گزر رہا ہے۔ ان کے مطابق اگر کوئی ایک جج بھی انصاف کے لیے مضبوط مؤقف اختیار کرے تو اس سے دیگر ججز کو بھی حوصلہ مل سکتا ہے۔

انہوں نے کہا کہ عوام عدلیہ سے انصاف کی امید لگائے بیٹھے ہیں، اس لیے ججز کو اپنی ذمہ داریاں پوری کرنا ہوں گی۔ اگر عوام کو عدالتوں سے بھی انصاف نہیں ملے گا تو پھر وہ انصاف کے لیے کہاں جائیں گے۔

نوجوانوں کے ردعمل پر بھی خبردار کردیا

وزیراعلیٰ خیبرپختونخوا نے کہا کہ انہیں نوجوانوں کی آنکھوں میں تبدیلی اور انقلاب کی ایک نئی کیفیت دکھائی دے رہی ہے، جسے قابو کرنا آسان نہیں ہوگا۔

انہوں نے خبردار کیا کہ اگر ظلم، ناانصافی اور نفرت کا سلسلہ اسی طرح جاری رہا تو صورتحال مزید پیچیدہ ہوسکتی ہے۔ ان کے مطابق وقت رہتے حکمرانوں اور فیصلہ سازوں کو صورتحال کی سنگینی کا ادراک کرنا ہوگا۔

محمد سہیل آفریدی نے ایک بار پھر مطالبہ کیا کہ 27 ستمبر سے پہلے ملک کو انصاف، آئین اور قانون کی حکمرانی کی جانب واپس لانے کے لیے اقدامات کیے جائیں، بصورت دیگر آنے والے حالات کو سنبھالنا حکمرانوں کے لیے مشکل ہوسکتا ہے۔