ویب ڈیسک: چین نے غیر ملکی سیاحوں، سرمایہ کاروں اور کاروباری شخصیات کے لیے اپنے دروازے مزید کھولنے کا فیصلہ کرتے ہوئے ویزا فری داخلے کی سہولت میں توسیع اور امیگریشن نظام کو جدید ڈیجیٹل ٹیکنالوجی سے ہم آہنگ کرنے کے جامع منصوبے کا اعلان کر دیا ہے۔
چینی وزارتِ عوامی تحفظ کے مطابق نئی پالیسی کا مقصد بیرونِ ملک سے آنے والے مسافروں کے لیے داخلے کے تمام مراحل کو زیادہ آسان، تیز اور مؤثر بنانا ہے۔ حکام کا کہنا ہے کہ حکومت بین الاقوامی روابط کے فروغ اور سفری رکاوٹوں کے خاتمے کے لیے امیگریشن قوانین میں مرحلہ وار اصلاحات کر رہی ہے۔
سرکاری خبر رساں ادارے شِن ہوا کے مطابق متعلقہ ادارے ویزا فری ٹرانزٹ اور بغیر ویزا داخلے سے متعلق ضوابط کو مزید سہل بنانے پر کام کر رہے ہیں تاکہ دنیا بھر سے آنے والے مسافروں کو بہتر سہولتیں فراہم کی جا سکیں۔
منصوبے کے تحت الیکٹرانک سفری دستاویزات، بشمول ای پاسپورٹ اور دیگر ڈیجیٹل سفری اجازت ناموں کے استعمال کو فروغ دیا جائے گا، جس سے کاغذی کارروائی میں نمایاں کمی آئے گی اور امیگریشن کا عمل تیز ہو سکے گا۔ اس مقصد کے لیے جدید اسمارٹ بارڈر چینلز بھی قائم کیے جائیں گے، جہاں اہل مسافر مختصر وقت میں داخلے کی کارروائی مکمل کر سکیں گے۔
چینی حکومت نے ویزا، رہائشی اجازت ناموں اور امیگریشن سے متعلق دیگر خدمات کو بھی مرحلہ وار مکمل آن لائن نظام میں منتقل کرنے کا فیصلہ کیا ہے، تاکہ درخواست دہندگان کو دفاتر کے غیر ضروری چکر نہ لگانے پڑیں اور تمام مراحل ڈیجیٹل انداز میں مکمل کیے جا سکیں۔
حکام کے مطابق یہ اقدام غیر ملکی شہریوں کے لیے سہولتوں میں اضافے کی وسیع حکمتِ عملی کا حصہ ہے، جس کے تحت مستقبل میں ویزا، رہائش اور امیگریشن کے شعبوں میں مزید اصلاحات بھی متوقع ہیں۔
سرکاری اعداد و شمار کے مطابق اس وقت 50 ممالک کے شہری یکطرفہ ویزا فری پالیسی سے فائدہ اٹھا رہے ہیں، جبکہ 55 ممالک کے مسافر چین کے 65 داخلی مقامات کے ذریعے 240 گھنٹے تک بغیر ویزا ٹرانزٹ کی سہولت حاصل کر سکتے ہیں۔
رواں سال کے پہلے چھ ماہ کے دوران چین آنے والے غیر ملکی مسافروں کی تعداد تقریباً 2 کروڑ 30 لاکھ تک پہنچ گئی، جو گزشتہ سال کے اسی عرصے کے مقابلے میں 20.4 فیصد زیادہ ہے۔ حکام کا کہنا ہے کہ اس نمایاں اضافے کی بنیادی وجہ ویزا پالیسی میں نرمی اور جدید سفری سہولتوں کا اجرا ہے۔
اعداد و شمار کے مطابق چین آنے والے غیر ملکی مسافروں میں جنوبی کوریا، روس، ملائیشیا، ویتنام، تھائی لینڈ، سنگاپور، امریکا، جاپان، منگولیا اور آسٹریلیا کے شہری نمایاں رہے۔
چینی حکومت کا کہنا ہے کہ نئی اصلاحات کا مقصد عالمی روابط کو مضبوط بنانا، سیاحت اور سرمایہ کاری کو فروغ دینا اور غیر ملکی مسافروں کے لیے چین کے سفر کو پہلے سے زیادہ آسان، محفوظ اور جدید بنانا ہے۔