حسبان میڈیا - Hasban Media Logo
سہیل آفریدی کی تائید کے باوجود، بیرسٹر گوہر نے "عمران خان ریلیز فورس" کی تشکیل کی منظوری دینے سے صاف انکار کر دیا تھا۔ Home / سیاست /

سہیل آفریدی کی تائید کے باوجود، بیرسٹر گوہر نے "عمران خان ریلیز فورس" کی تشکیل کی منظوری دینے سے صاف انکار کر دیا تھا۔

ایڈیٹر - 29/07/2026
سہیل آفریدی کی تائید کے باوجود، بیرسٹر گوہر نے

بیرسٹر گوہر کی سخت مخالفت؛ پی ٹی آئی کا 'عمران خان ریلیز فورس' قائم کرنے کا متنازع منصوبہ معطل، اندرونی کہانی منظر عام پر

اسلام آباد  : پاکستان تحریک انصاف (پی ٹی آئی) کے اندرونی حلقوں سے ایک اہم ترین انکشاف سامنے آیا ہے جس کے مطابق بانی پی ٹی آئی عمران خان کی رہائی کے لیے مجوزہ ’’عمران خان ریلیز فورس‘‘ کا منصوبہ پارٹی چیئرمین بیرسٹر گوہر علی خان کی شدید قانونی مخالفت کے باعث حتمی شکل اختیار نہ کر سکا۔ یہ معاملہ اس وقت دوبارہ سیاسی و قانونی حلقوں میں بحث کا مرکز بن گیا جب وزیر اعلیٰ خیبر پختونخوا سہیل آفریدی نے آئینی عدالت کے سامنے یہ بیان دیا کہ ایسی کسی فورس کا وجود سرے سے قائم ہی نہیں کیا گیا۔

ذرائع کے مطابق، اگرچہ وزیر اعلیٰ کے پی کا عدالت میں دیا گیا بیان تکنیکی طور پر درست ہے، تاہم پس پردہ حقائق یہ بتاتے ہیں کہ سہیل آفریدی خود اس فورس کی تشکیل کے لیے سب سے زیادہ متحرک اور پرعزم رہنماؤں میں شامل تھے۔ انہوں نے پارٹی کے حامیوں کو متحرک کرنے، ان کی باقاعدہ رجسٹریشن اور مہم سے قبل حلف لینے کا باضابطہ اعلان بھی کر رکھا تھا۔ اس منصوبے کو پی ٹی آئی قیادت کے ایک بااثر دھڑے کی بھرپور حمایت حاصل تھی، جو بانی پی ٹی آئی کی رہائی کے لیے ایک منظم رضاکار فورس قائم کرنا چاہتا تھا۔

پارٹی ذرائع کا کہنا ہے کہ اس منصوبے کی راہ میں سب سے بڑی رکاوٹ پی ٹی آئی کے چیئرمین بیرسٹر گوہر علی خان بنے، جنہوں نے اس نوعیت کی کسی بھی تنظیم کی منظوری دینے یا اس کا باضابطہ نوٹیفکیشن جاری کرنے سے صاف انکار کر دیا۔ بیرسٹر گوہر کا قانونی موقف انتہائی دوٹوک تھا کہ کسی بھی قسم کی "فورس" یا متوازی عسکری ڈھانچے کا قیام غیر آئینی اور غیر قانونی عمل تصور ہوگا۔ انہوں نے پارٹی قیادت کو سخت الفاظ میں متنبہ کیا تھا کہ ایسے اقدامات سے تحریک انصاف کو سنگین قانونی نتائج بھگتنا پڑ سکتے ہیں اور مخالفین کو پارٹی پر عسکریت پسندی جیسے الزامات عائد کرنے کا موقع مل جائے گا۔

یہ تنازع چند ماہ قبل اس وقت شروع ہوا تھا جب خیبر پختونخوا حکومت اور پارٹی کے چند رہنماؤں نے بانی پی ٹی آئی کی رہائی کی مہم کو تیز کرنے کے لیے اس خصوصی فورس کا خاکہ تیار کیا تھا۔ تاہم، پارٹی چیئرمین کی قانونی حکمت عملی اور دوٹوک انکار کے بعد اس تجویز کو ہمیشہ کے لیے ترک کر دیا گیا۔ تجزیہ کاروں کے مطابق، وزیر اعلیٰ کا عدالت میں حالیہ بیان پارٹی کو ممکنہ قانونی گرفت سے بچانے کی ایک دانستہ کوشش ہے، کیونکہ حقیقت میں یہ فورس صرف بیرسٹر گوہر کے سخت موقف کی وجہ سے کاغذات سے باہر نہ آسکی۔