حسبان میڈیا - Hasban Media Logo
پشاور: وزیر اعلیٰ خیبر پختونخوا سہیل آفریدی کا 5 اگست کو پشاور ٹول پلازہ پر بڑے جلسے کا اعلان، عوام سے بھرپور شرکت کی اپیل Home / سیاست /

پشاور: وزیر اعلیٰ خیبر پختونخوا سہیل آفریدی کا 5 اگست کو پشاور ٹول پلازہ پر بڑے جلسے کا اعلان، عوام سے بھرپور شرکت کی اپیل

ایڈیٹر - 28/07/2026
پشاور: وزیر اعلیٰ خیبر پختونخوا سہیل آفریدی کا 5 اگست کو پشاور ٹول پلازہ پر بڑے جلسے کا اعلان، عوام سے بھرپور شرکت کی اپیل

پشاور: وزیر اعلیٰ خیبر پختونخوا محمد سہیل آفریدی نے 5 اگست کو شام 6 بجے پشاور ٹول پلازہ پر ایک عظیم الشان جلسے کا باضابطہ اعلان کرتے ہوئے صوبے کے عوام، بالخصوص نوجوانوں سے بھرپور شرکت کی اپیل کی ہے۔

تفصیلات کے مطابق، وزیر اعلیٰ نے اپنے ایک اہم پیغام میں مقتدر حلقوں اور موجودہ حکومت کو آڑے ہاتھوں لیتے ہوئے کہا کہ ملک میں ظلم، ناانصافی، مہنگائی، بے روزگاری اور بدامنی کے خلاف اب عوام کو خود میدان میں آ کر اپنی آواز بلند کرنی ہو گی۔ انہوں نے 5 اگست کے اس سیاسی اجتماع کو ایک "سیمی فائنل" قرار دیا جس میں تحریک انصاف کی جانب سے انتہائی اہم اور بڑے مستقبل کے اعلانات کیے جائیں گے۔

وزیر اعلیٰ سہیل آفریدی نے پاکستان تحریک انصاف کے بانی عمران خان اور ان کی اہلیہ بشریٰ بی بی کی اڈیالہ جیل میں گرتی ہوئی صحت پر گہری تشویش کا اظہار کیا۔ انہوں نے الزام عائد کیا کہ ذاتی معالجین کی نگرانی میں علاج کا آئینی اور قانونی مطالبہ پورا نہیں کیا جا رہا، اور عمران خان کو غیر قانونی طور پر قیدِ تنہائی میں رکھا گیا ہے جہاں اہل خانہ، پارٹی رہنماؤں اور ان کے بیٹوں تک کو ملاقات کی اجازت نہیں دی جا رہی۔ ان کا کہنا تھا کہ عمران خان کو اغوا شدہ شخص جیسا سلوک کا سامنا ہے اور مقدمات کی سماعتوں میں بھی عدالتوں کے احکامات ہوا میں اڑا دیے گئے ہیں۔

صوبائی قائد نے مزید واضح کیا کہ گزشتہ دو برس سے پرامن رہنے کے باوجود ملاقاتوں پر پابندیاں برقرار رکھی گئیں۔ تمام آئینی اور قانونی راستے مسدود ہونے کے بعد اب صرف پرامن احتجاج ہی واحد راستہ بچا ہے۔ انہوں نے وفاقی حکومت پر کڑی تنقید کرتے ہوئے کہا کہ موجودہ حکمران عوام کے مفادات کے تحفظ کے بجائے اپنے غیر ملکی آقاؤں کے مفادات کا تحفظ کر رہے ہیں، جبکہ ملک تباہی کی طرف دھکیلا جا رہا ہے۔ انہوں نے دوٹوک الفاظ میں کہا کہ عمران خان کو جھکانے کی تمام کوششیں ناکام ہوں گی کیونکہ وہ جیل میں رہ کر بھی آزاد ہیں اور موجودہ حکمران اقتدار میں رہ کر بھی ذہنی طور پر غلام ہیں۔