حسبان میڈیا - Hasban Media Logo
ملاکنڈ ڈویژن میں ٹیکس نظام کا نفاذ غریب عوام اور تاجروں کا معاشی قتل ہے— صدر خار بازار واجد علی شاہ Home / باجوڑ /

ملاکنڈ ڈویژن میں ٹیکس نظام کا نفاذ غریب عوام اور تاجروں کا معاشی قتل ہے— صدر خار بازار واجد علی شاہ

ایڈیٹر - 02/07/2026
ملاکنڈ ڈویژن میں  ٹیکس نظام کا نفاذ غریب عوام اور تاجروں کا معاشی قتل ہے— صدر خار بازار واجد علی شاہ

باجوڑ خار بازار الائنس کے صدر واجد علی شاہ نے ملاکنڈ ڈویژن اور سابقہ فاٹا کے ضم شدہ قبائلی اضلاع میں باقاعدہ ٹیکس نظام کے نفاذ اور بینکوں سے رقوم نکلوانے پر فی لاکھ 800 روپے کی کٹوتی کو یکسر مسترد کر دیا ہے۔ انہوں نے اس حکومتی اقدام کو خطے کے غریب عوام اور تاجر برادری کے ساتھ شدید ناانصافی قرار دیتے ہوئے ملک گیر احتجاجی تحریک کا عندیہ دیا ہے۔ باجوڑ کے کاروباری اور عوامی حلقوں کی جانب سے اس فیصلے کے خلاف سخت ترین الفاظ میں مخالفت اور شدید غم و غصے کا اظہار کیا جا رہا ہے۔

اپنے ایک ہنگامی احتجاجی بیان میں صدر خار بازار باجوڑ واجد علی شاہ کا کہنا تھا کہ ملاکنڈ ڈویژن اور سابق فاٹا کے اضلاع طویل عرصے سے دہشت گردی، بدامنی اور سیلاب جیسی بدترین قدرتی آفات سے شدید متاثر رہے ہیں۔ انہوں نے وفاق پر تنقید کرتے ہوئے کہا کہ ایسے پسماندہ اور معاشی طور پر تباہ حال خطے پر زبردستی ٹیکس نافذ کرنا یہاں کے تاجروں اور عوام کا معاشی قتل عام کرنے کے مترادف ہے۔ ان کا مزید کہنا تھا کہ بینک سے محنت کی کمائی نکالنے پر ہر ایک لاکھ روپے پر 800 روپے کاٹنا غریب عوام کی جیبوں پر ڈاکہ ڈالنے کے برابر ہے، جسے یہاں کا کوئی بھی شہری کسی صورت قبول نہیں کرے گا۔ تاجر رہنما نے وفاقی اور صوبائی حکومتوں کو سخت لہجے میں خبردار کیا کہ اگر یہ ظالمانہ ٹیکس فوری طور پر واپس نہ لیا گیا تو باجوڑ سمیت پورے ملاکنڈ ڈویژن میں مکمل شٹر ڈاؤن ہڑتال کی جائے گی اور تمام کاروباری مراکز لا محدود مدت کے لیے بند کر دیے جائیں گے۔