پاکستان تحریک انصاف نے وفاقی حکومت کی جانب سے فاٹا اور پاٹا میں ٹیکس استثنیٰ ختم کرنے کے اقدام کو یکسر مسترد کرتے ہوئے 4 جولائی کو تاجروں کی جانب سے کی جانے والی احتجاجی ہڑتال کی بھرپور حمایت کا اعلان کر دیا ہے۔ پشاور میں تحریک انصاف کے صوبائی صدر جنید اکبر خان اور سابق اسپیکر قومی اسمبلی اسد قیصر نے سابق صوبائی وزرا عاطف خان، شوکت یوسف زئی، شہرام ترکئی اور دیگر پارٹی رہنماؤں کے ہمراہ ایک اہم پریس کانفرنس کرتے ہوئے وفاقی حکومت کی اقتصادی پالیسیوں کو شدید تنقید کا نشانہ بنایا۔
پریس کانفرنس سے خطاب کرتے ہوئے رہنماؤں کا کہنا تھا کہ وفاقی حکومت فاٹا اور پاٹا کے علاقوں میں کسی بھی قسم کی اصلاحات اور پسماندگی دور کیے بغیر ٹیکسز لاگو کر کے ظلم کی انتہا کر رہی ہے۔ انہوں نے نشاندہی کی کہ ایک طرف علاقے کو دہشت گردی کا سامنا ہے اور افغانستان بارڈر بند ہونے کی وجہ سے کاروبار ٹھپ ہیں، دوسری طرف لوگوں کے پاس روزگار کے مواقع موجود نہیں۔ ایسی صورتحال میں کارخانے لگانا اور نئے ٹیکسز کا نفاذ بلاجواز ہے، جس کے خلاف تاجر برادری سراپا احتجاج ہے اور تحریک انصاف اس احتجاج میں ان کے شانہ بشانہ کھڑی رہے گی۔
رہنماؤں نے خیبر پختونخوا میں جاری ظالمانہ اور غیر اعلانیہ لوڈ شیڈنگ کی بھی شدید مذمت کی۔ سابق اسپیکر اسد قیصر نے افسوس کا اظہار کرتے ہوئے کہا کہ خیبر پختونخوا اپنی ضرورت سے زیادہ بجلی پیدا کر رہا ہے، لیکن وفاق صوبے کو اس کا آئینی حق دینے سے انکاری ہے، جس کی وجہ سے اس شدید گرمی میں عوام شدید مشکلات کا شکار ہیں۔ انہوں نے مطالبہ کیا کہ صوبے کو اس کے آئینی حق کے مطابق بجلی فراہم کی جائے اور لوڈ شیڈنگ کا فوری خاتمہ کیا جائے۔ پی ٹی آئی قیادت نے تمام اضلاع میں پارٹی تنظیموں کو لوڈ شیڈنگ کے خلاف احتجاجی مظاہروں کی ہدایت جاری کرتے ہوئے کہا کہ اگر واپڈا نے ٹرانسفارمرز اور کھمبوں کی فراہمی کے مسائل حل نہ کیے تو احتجاج کا دائرہ وسیع کر دیا جائے گا۔