حکمران جماعتیں عوام کا سامنا کرنے کی سکت کھو چکی ہیں، جے یو آئی کے علاوہ کوئی جماعت عوامی خدمت نہیں کر رہی: مولانا فضل الرحمان
اسلام آباد: جمیعت علمائے اسلام (ف) کے سربراہ مولانا فضل الرحمان نے حکومتی اتحاد پر کڑی تنقید کرتے ہوئے کہا ہے کہ موجودہ حکمران جماعتیں عوام میں جانے کا حوصلہ نہیں رکھتیں۔ انہوں نے اس بات پر زور دیا کہ ملک میں جاری بدامنی کے ماحول میں عوامی اجتماعات کا انعقاد ہی امن کے قیام کو فروغ دے سکتا ہے، اور ایسے اجتماعات سے امن پسند عناصر کو حوصلہ جبکہ بدامنی پھیلانے والی قوتوں کا حوصلہ ٹوٹتا ہے۔ ان خیالات کا اظہار انہوں نے پھول نگر، قصور میں منعقد ہونے والی آئندہ 'تحفظِ مدارس دینیہ و عوامی حقوق کانفرنس' کی تیاریوں کے سلسلے میں راولپنڈی ڈویژن کے اضلاع کے ذمہ داران کے ایک اہم اجلاس سے خطاب کرتے ہوئے کیا۔
مرکزی سب آفس جامع مسجد فاروق اعظم آئی نائن (I-9) اسلام آباد میں منعقدہ اس اجلاس کے دوران جے یو آئی کے سربراہ نے تنظیمی کارکردگی پر اطمینان کا اظہار کرتے ہوئے کہا کہ اس وقت جمیعت علمائے اسلام کے علاوہ کوئی بھی سیاسی جماعت عوام کی حقیقی خدمت نہیں کر رہی۔ انہوں نے قرآنی فلسفے اور علم کی اہمیت پر روشنی ڈالتے ہوئے مزید کہا کہ انسان روئے زمین پر اللہ تعالیٰ کا خلیفہ ہے جبکہ ملائکہ میں نیابت کی استعداد نہیں ہے اور نہ ہی جنات میں یہ صلاحیت پائی جاتی ہے، تاہم انہوں نے واضح کیا کہ انسان نے ہمیشہ اس خداداد صلاحیت کا درست استعمال نہیں کیا۔ انہوں نے شرکاء کو مائل کرتے ہوئے کہا کہ علم کبھی نفع کا باعث بنتا ہے اور کبھی نقصان کا سبب بھی بن جاتا ہے؛ یہی علم جہاں ایک طرف ہدایت کا ذریعہ بنتا ہے تو دوسری جانب کبھی گمراہی کا سبب بھی بن سکتا ہے۔
اجلاس کے اختتام پر پھول نگر قصور میں شیڈول آئندہ الیون جولائی (11 جولائی) کی کانفرنس کو کامیاب بنانے کے لیے عزم کا اعادہ کیا گیا۔ اس موقع پر جے یو آئی پنجاب کے سیکرٹری جنرل حافظ نصیر احمد احرار، مفتی ابرار احمد، صوبائی ترجمان حافظ غضنفر عزیز، صوبائی ناظمینِ نور خان، ہانس مولانا سعید الرحمان سرور، مفتی اویس عزیز، حافظ محمد تنویر گجر، ڈاکٹر ضیاء الرحمان امازئی، مفتی محمد زاہد شاہ، مفتی خالد شریف، قاری محمد ابراہیم، مولانا مقصود احمد، مولانا خالقداد عثمان، مولانا عاصم عبدالسلام نقشبندی، حافظ ندیم اخلاص، مفتی محمد عبداللہ، قاری افتخار حسین، ارشد عباسی، مولانا حنیف ندیم، چوہدری عبدالجبار، حافظ ضیاء اللہ خان، حافظ یاسر زمان اور دیگر اہم تنظیمی عہدیداران و کارکنان کی بڑی تعداد نے شرکت کی۔