حسبان میڈیا - Hasban Media Logo
سندھ اسمبلی نے مالی سال 27-2026 کے لیے ساڑھے 3 ٹریلین روپے سے زائد کا بجٹ کثرتِ رائے سے منظور کر لیا۔ Home / سیاست /

سندھ اسمبلی نے مالی سال 27-2026 کے لیے ساڑھے 3 ٹریلین روپے سے زائد کا بجٹ کثرتِ رائے سے منظور کر لیا۔

ایڈیٹر - 29/06/2026
سندھ اسمبلی نے مالی سال 27-2026 کے لیے ساڑھے 3 ٹریلین روپے سے زائد کا بجٹ کثرتِ رائے سے منظور کر لیا۔

سندھ اسمبلی نے آئندہ مالی سال کے لیے ساڑھے 3 ٹریلین روپے سے زائد کا بجٹ منظور کر لیا؛ کیٹی بندر پر اقتصادی نیٹ ورک بنانے کا اعلان

کراچی: سندھ اسمبلی نے صوبے کی تاریخ کے اہم ترین معاشی معرکے میں مالی سال 27-2026 کے لیے ساڑھے 3 ٹریلین روپے سے زائد کا سالانہ بجٹ کثرتِ رائے سے منظور کر لیا ہے۔ صوبائی ایوان نے بجٹ کے ساتھ ساتھ سپلیمنٹری گرانٹس کی بھی باضابطہ منظوری دے دی ہے۔ بجٹ منظوری کے بعد ایوان سے خطاب کرتے ہوئے وزیر اعلیٰ سندھ مراد علی شاہ نے حکومت کی کارکردگی اور آئندہ کے معاشی و ترقیاتی روڈ میپ کی تفصیلات پریس کے سامنے رکھیں۔

وزیر اعلیٰ سندھ کا کہنا تھا کہ موجودہ مالیاتی سال میں 344 ارب روپے کے بھاری خسارے کے باوجود حکومت نے غیر متزلزل کارکردگی کا مظاہرہ کرتے ہوئے تقریباً 100 اہم ترقیاتی منصوبے کامیابی سے مکمل کیے۔ انہوں نے عزم ظاہر کیا کہ آئندہ مالی سال کے دوران صوبے بھر میں 1800 سے زائد ترقیاتی منصوبوں کو پایاۂ تکمیل تک پہنچایا جائے گا۔ کراچی کے بنیادی ڈھانچے پر بات کرتے ہوئے انہوں نے اعتراف کیا کہ شہر کی سڑکوں کی حالت ابتر ہے، جس کے لیے حکومت نے تمام سڑکوں کی مائیکرو میپنگ (نقشہ سازی) مکمل کر لی ہے۔ ان سڑکوں کی تعمیرِ نو کا کچھ حصہ فرنٹیئر ورکس آرگنائزیشن (FWO) کے سپرد کیا جائے گا جبکہ بقیہ منصوبے صوبائی حکومت خود پبلک پرائیویٹ پارٹنرشپ کے تحت مکمل کرے گی۔

مراد علی شاہ نے وفاق کے ساتھ جاری منصوبوں کا تذکرہ کرتے ہوئے کہا کہ وفاقی حکومت کے فور (K-IV) منصوبہ اور سائٹ (SITE) ایریا کی سڑکوں کے لیے بڑی مشکل سے معاونت فراہم کر رہی ہے، جس کے پیشِ نظر سندھ حکومت اب پبلک پرائیویٹ پارٹنرشپ کے ماڈل پر بڑے منصوبوں پر توجہ مرکوز کر رہی ہے۔ انہوں نے انکشاف کیا کہ وزیر اعظم پاکستان سے مشاورت مکمل ہو چکی ہے اور پبلک پرائیویٹ پارٹنرشپ کے تحت 'کیٹی بندر' منصوبے کا آغاز کیا جائے گا، جو محض ایک بندرگاہ نہیں بلکہ ایک وسیع اقتصادی نیٹ ورک اور گرین انرجی حب ثابت ہوگا کیونکہ سندھ کے پاس سستی بجلی پیدا کرنے کے بے پناہ وسائل موجود ہیں۔ وزیر اعلیٰ نے یہ یقین دہانی بھی کروائی کہ سانحہ گل پلازہ کی تحقیقاتی رپورٹ جلد پبلک کر دی جائے گی، جس کے متاثرین کے لیے حکومت 8 ارب روپے کی سبسڈی فراہم کر چکی ہے۔