حسبان میڈیا - Hasban Media Logo
عالمی مارکیٹ میں پیر کے روز کاروباری آغاز پر ہی سونے کی قیمتوں میں کمی۔ Home / بین الاقوامی /

عالمی مارکیٹ میں پیر کے روز کاروباری آغاز پر ہی سونے کی قیمتوں میں کمی۔

ایڈیٹر - 29/06/2026
عالمی مارکیٹ میں پیر کے روز کاروباری آغاز پر ہی سونے کی قیمتوں میں کمی۔

عالمی منڈی میں سونے کی قیمتوں میں نمایاں کمی؛ امریکی شرحِ سود میں متوقع اضافے نے سرمایہ کاروں کو محتاط کر دیا

اسلام آباد: عالمی مالیاتی مارکیٹ میں پیر کے روز کاروباری ہفتے کے آغاز پر ہی سونے کی قیمتوں میں واضح کمی ریکارڈ کی گئی ہے۔ معاشی ماہرین کے مطابق قیمتوں میں اس حالیہ گراوٹ کی سب سے بڑی وجہ امریکی مرکزی بینک (فیڈرل ریزرو) کی جانب سے شرحِ سود میں مزید اضافے کی مضبوط توقعات ہیں۔ سود کی شرح بلند رہنے کے امکانات نے عالمی سرمایہ کاروں کو محتاط رویہ اختیار کرنے پر مجبور کر دیا ہے، جس کا براہِ راست اثر قیمتی دھاتوں کی طلب پر پڑا ہے۔

اعداد و شمار کے مطابق، بین الاقوامی مارکیٹ میں اسپاٹ گولڈ (برتنِ وقت سونا) کی قیمت 0.7 فیصد کی کمی کے بعد 4,061.35 ڈالر فی اونس کی سطح پر آ گئی ہے۔ دوسری جانب، امریکی گولڈ فیوچرز (مستقبل کے سودے) بھی 0.5 فیصد خسارے کے ساتھ 4,076.40 ڈالر فی اونس ریکارڈ کیے گئے ہیں۔ معاشی تجزیہ کاروں کا کہنا ہے کہ یہ رواں سال کا مسلسل چوتھا مہینہ ہے جب عالمی سطح پر سونے کی قیمتوں میں مسلسل گراوٹ کا رجحان دیکھا جا رہا ہے، جو کہ مارکیٹ کے بدلتے ہوئے مزاج کی عکاسی کرتا ہے۔

معاشی ماہرین کا اس حوالے سے کہنا ہے کہ جب شرحِ سود میں اضافے کی توقعات بڑھتی ہیں، تو سونا دیگر سود آور سرمایہ کاری کے طریقوں کے مقابلے میں کم پرکشش ہو جاتا ہے، کیونکہ سونا رکھنے پر سرمایہ کار کو کوئی باقاعدہ منافع یا سود حاصل نہیں ہوتا۔ تجزیہ کاروں کے مطابق، اس وقت مارکیٹ کے بڑے سرمایہ کاروں کی نظریں امریکا کے آئندہ جاری ہونے والے روزگار کے اعداد و شمار پر جم گئی ہیں، جو امریکی مرکزی بینک کی مانیٹری پالیسی کا رخ طے کرنے میں کلیدی اشارہ ثابت ہوں گے۔ ماہرین کا مزید کہنا ہے کہ اگر مستقبل میں مہنگائی کی شرح کم ہوتی ہے، امریکی ڈالر کمزور پڑتا ہے اور عالمی جغرافیائی سیاسی صورتحال بدلتی ہے تو سونے کی قیمت دوبارہ بلندیوں کو چھو سکتی ہے۔ فی الوقت مشرقِ وسطیٰ کے حالات، عالمی تجارتی کشیدگی اور مرکزی بینکوں کی طرف سے سونے کی خریداری جیسے عوامل آئندہ چند ہفتوں میں قیمتوں کے تعین کا فیصلہ کریں گے۔