حسبان میڈیا - Hasban Media Logo
ایران معاہدے پر ٹرمپ کے بڑے دعوے، یورپی اتحادیوں اور نیٹو سے مایوسی کا اظہار Home / بین الاقوامی /

ایران معاہدے پر ٹرمپ کے بڑے دعوے، یورپی اتحادیوں اور نیٹو سے مایوسی کا اظہار

ایڈیٹر - 25/06/2026
ایران معاہدے پر ٹرمپ کے بڑے دعوے، یورپی اتحادیوں اور نیٹو سے مایوسی کا اظہار

واشنگٹن: امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے ایران کے ساتھ جاری سفارتی عمل کو امریکا کی کامیابی قرار دیتے ہوئے دعویٰ کیا ہے کہ تہران معاہدے کے نتیجے میں بڑی رعایتیں دے رہا ہے، جبکہ امریکا اپنے مقاصد کے حصول کی جانب بڑھ رہا ہے۔

نیٹو کے سربراہ کے ہمراہ ذرائع ابلاغ سے گفتگو کرتے ہوئے ڈونلڈ ٹرمپ نے کہا کہ ایران سے متعلق تنازع کے دوران انہیں اپنے بعض اتحادیوں سے توقعات کے مطابق حمایت نہیں ملی۔ ان کا کہنا تھا کہ نیٹو اور کئی یورپی ممالک نے اس معاملے میں امریکا کا بھرپور ساتھ نہیں دیا، جس پر انہیں مایوسی ہوئی۔

امریکی صدر نے برطانیہ، فرانس، جرمنی، اسپین اور اٹلی کا حوالہ دیتے ہوئے کہا کہ ایران کے معاملے پر یورپی اتحادیوں کا کردار توقعات سے کم رہا، تاہم امریکا اپنی پالیسی پر ثابت قدم ہے۔

بعد ازاں سینیٹ روانگی سے قبل صحافیوں سے مختصر گفتگو میں ڈونلڈ ٹرمپ نے کہا کہ ایران سے متعلق پیش رفت مثبت سمت میں جاری ہے اور امریکا اپنے مقاصد کے حصول میں کامیاب ہو رہا ہے، تاہم انہوں نے اپنے دعوؤں کی مزید تفصیلات بیان نہیں کیں۔

امریکی صدر نے آبنائے ہُرمُز سے متعلق بھی بیان دیتے ہوئے کہا کہ ایران کی جانب سے جہازوں پر کسی قسم کا ٹول ٹیکس یا اضافی فیس عائد نہ کرنے کی یقین دہانی کرائی گئی ہے۔ انہوں نے خبردار کیا کہ اگر اس حوالے سے سامنے آنے والی اطلاعات درست ثابت نہ ہوئیں تو مذاکراتی عمل متاثر ہو سکتا ہے۔

ڈونلڈ ٹرمپ نے یہ بھی واضح کیا کہ امریکا ایران کے منجمد اثاثوں سے براہِ راست رقوم جاری نہیں کرے گا، تاہم ان کے بقول ایران امریکی زرعی اجناس کی خریداری کے لیے انہی اثاثوں سے ادائیگی کر سکتا ہے۔

دوسری جانب ایرانی پاسدارانِ انقلاب نے آبنائے ہُرمُز سے متعلق اپنے مؤقف کا اعادہ کرتے ہوئے کہا ہے کہ ایران کی مشاورت کے بغیر کسی نئے بحری راستے یا گزرگاہ کے اعلان کو قبول نہیں کیا جائے گا۔

پاسدارانِ انقلاب کے مطابق آبنائے ہُرمُز میں محفوظ بحری آمد و رفت صرف ان راستوں کے ذریعے ممکن ہے جن کی نشاندہی اور منظوری ایران کی جانب سے دی گئی ہے۔ ایرانی حکام نے خبردار کیا ہے کہ اس حساس آبی گزرگاہ سے گزرنے والے جہازوں کو مقررہ ضوابط اور ہدایات کی پابندی کرنا ہوگی۔

تجزیہ کاروں کے مطابق ایران اور امریکا کے درمیان جاری سفارتی پیش رفت، آبنائے ہُرمُز کی صورتحال اور خطے میں بدلتے سیاسی حالات آنے والے دنوں میں مشرقِ وسطیٰ کی سیاست اور عالمی توانائی منڈیوں پر اہم اثرات مرتب کر سکتے ہیں۔