خیبر پختونخوا حکومت نے وفاق کو صوبائی گرانٹ اور مالیاتی کٹوتیوں کی فراہمی کو بانی پاکستان تحریک انصاف (پی ٹی آئی) عمران خان کے ساتھ وزیر اعلیٰ اور اہلخانہ کی ملاقات سے مشروط کر دیا ہے۔ اس غیر معمولی سیاسی فیصلے کا اعلان صوبائی دارالحکومت پشاور میں منعقدہ ایک اہم پریس کانفرنس کے دوران کیا گیا، جس نے وفاق اور صوبے کے مابین بجٹ کے بعد کی صورتحال میں ایک نیا تنازع کھڑا کر دیا ہے۔
پوسٹ بجٹ پریس کانفرنس سے خطاب کرتے ہوئے صوبائی وزیر اطلاعات شفیع جان نے وفاقی حکومت کو سخت لہجے میں خبردار کیا کہ جب تک بانی پی ٹی آئی سے ملاقات کے راستے ہموار نہیں کیے جاتے، صوبہ کسی بھی قسم کی مالیاتی کٹوتی کی اجازت نہیں دے گا۔ صوبائی وزیر اطلاعات کا کہنا تھا کہ گزشتہ 7 ماہ سے بانی پی ٹی آئی کی ان کے اہلخانہ سے ملاقات نہیں کرائی گئی، جو کہ بنیادی انسانی حقوق کی خلاف ورزی ہے۔ انہوں نے مطالبہ کیا کہ وزیر اعلیٰ خیبر پختونخوا کی بانی پی ٹی آئی سے فوری طور پر باضابطہ ملاقات کا اہتمام کیا جائے۔
دوسری جانب، نجی ٹی وی چینل کے پروگرام میں گفتگو کرتے ہوئے مشیر خزانہ خیبر پختونخوا مزمل اسلم نے صوبائی مؤقف کی مزید وضاحت کی۔ انہوں نے انکشاف کیا کہ نیشنل اکنامک کونسل (NEC) کے حالیہ اجلاس میں خیبر پختونخوا کی جانب سے وفاق کو گرانٹس دینے کا کوئی حتمی معاہدہ یا کمٹمنٹ نہیں کی گئی تھی۔ انہوں نے واضح کیا کہ اس حوالے سے جو بھی بات چیت ہوئی تھی، وہ این ای سی کے باقاعدہ اجلاس سے قبل کی تھی۔ مزمل اسلم کا مزید کہنا تھا کہ بانی پی ٹی آئی کی منظوری اور ملاقات کے بغیر وفاق کو فنڈز کی منتقلی ممکن نہیں ہے کیونکہ یہ صوبائی انتظامیہ کے اکیلے بس کی بات نہیں۔ انہوں نے ماضی کی مثال دیتے ہوئے یاد دلایا کہ گزشتہ برس آئی ایم ایف (IMF) کے اہم ترین اقتصادی معاہدے پر بھی بانی پی ٹی آئی سے جیل میں ملاقات اور ان کی حتمی اجازت کے بعد ہی دستخط کیے گئے تھے۔
اس کے برعکس، وفاق کی نمائندگی کرتے ہوئے وزیراعظم کے مشیر اور مسلم لیگ (ن) کے سینیئر رہنما رانا ثناء اللہ نے صوبائی حکومت کے اس دعوے کو یکسر مسترد کر دیا۔ پروگرام میں گفتگو کرتے ہوئے رانا ثناء اللہ کا کہنا تھا کہ این ای سی کے اجلاس میں وفاقی وزیر خزانہ محمد اورنگزیب نے تمام شرکاء کو واضح بریفنگ دی تھی کہ ملک کے اسٹریٹجک مقاصد اور معاشی استحکام کے لیے تمام صوبے وفاق کو مالیاتی تعاون فراہم کرنے پر رضا مند ہیں۔ انہوں نے دعویٰ کیا کہ اس اہم ترین اجلاس میں وزیر اعلیٰ خیبر پختونخوا سہیل آفریدی خود موجود تھے اور ان کی موجودگی میں یہ تمام امور طے پائے تھے۔ وفاق اور خیبر پختونخوا کے درمیان پیدا ہونے والا یہ نیا مالیاتی اور سیاسی تعطل آنے والے دنوں میں ملکی معیشت اور سیاسی ماحول پر گہرے اثرات مرتب کر سکتا ہے۔