پشاور میں خیبرپختونخوا کی کاؤنٹر ٹیررازم ڈیپارٹمنٹ سے متعلق سرکاری دستاویزات میں اہم خامیوں اور وسائل کی کمی کا انکشاف ہوا ہے، جس کے مطابق فورس کو افرادی قوت اور جدید آلات دونوں سطح پر چیلنجز کا سامنا ہے۔
دستاویزات کے مطابق صوبے میں سی ٹی ڈی کی مجموعی نفری 3 ہزار 844 اہلکاروں پر مشتمل ہے، تاہم مستقل ملازمین کی تعداد نہایت کم ہے اور زیادہ تر انحصار پولیس سے لیے گئے عارضی اہلکاروں پر کیا جاتا ہے۔
رپورٹ میں بتایا گیا ہے کہ محکمے کا مستقل مرکزی ہیڈکوارٹر مکمل طور پر فعال نہیں، جبکہ ضلعی دفاتر کی کمی بھی برقرار ہے۔ تاہم 21 نئے ضلعی دفاتر زیر تعمیر ہیں۔
اعداد و شمار کے مطابق فورس کے پاس صرف 17 بلٹ پروف ڈبل کیبن گاڑیاں موجود ہیں، جبکہ جدید فرانزک سہولیات، لوکیٹرز، جیمرز، بکتر بند گاڑیوں اور دیگر تکنیکی آلات کی شدید کمی بھی درپیش ہے، جس سے آپریشنل صلاحیت متاثر ہو رہی ہے۔
دوسری جانب صوبائی حکومت کا کہنا ہے کہ امن و امان کی صورتحال بہتر بنانے کے لیے پولیس اور سی ٹی ڈی کی استعداد کار بڑھانے پر بھاری سرمایہ کاری کی جا رہی ہے۔ حکام کے مطابق اربوں روپے کے منصوبوں کے تحت جدید اسلحہ، گاڑیاں اور تکنیکی آلات فراہم کیے جا رہے ہیں۔
سرکاری حکام نے بتایا کہ فورس کو مزید مضبوط بنانے اور اس کا دائرہ کار تمام اضلاع تک پھیلانے کے لیے اقدامات جاری ہیں، جبکہ مستقبل میں دہشت گردی کے مکمل خاتمے کے لیے صلاحیتوں میں مزید اضافہ کیا جائے گا۔