لاہور: پاکستان مسلم لیگ (ن) کے سینئر رہنما خواجہ سعد رفیق نے گلگت بلتستان انتخابات کے بعد پیدا ہونے والی سیاسی صورتحال پر اپنی رائے دیتے ہوئے پارٹی قیادت کو حکومت سازی کے معاملے میں محتاط حکمتِ عملی اپنانے کا مشورہ دیا ہے۔
اپنے بیان میں خواجہ سعد رفیق نے کہا کہ گلگت بلتستان کے انتخابی نتائج کو مسلم لیگ (ن) کی بڑی ناکامی قرار دینا درست تجزیہ نہیں۔ ان کے مطابق جماعت نے متعدد حلقوں میں بہتر کارکردگی کا مظاہرہ کیا اور کئی نشستوں پر کامیابی حاصل کی۔
انہوں نے دعویٰ کیا کہ مسلم لیگ (ن) آٹھ نشستوں پر کامیاب ہوئی، جبکہ دو آزاد امیدوار بھی پارٹی کی حمایت سے میدان میں اترے تھے اور کامیابی حاصل کرنے میں کامیاب رہے۔ ان کا کہنا تھا کہ چند دیگر حلقوں میں پارٹی امیدوار معمولی ووٹوں کے فرق سے شکست سے دوچار ہوئے۔
خواجہ سعد رفیق نے تجویز دی کہ خطے میں سیاسی استحکام اور پارلیمانی نظام کے تسلسل کے لیے مسلم لیگ (ن) کو حکومت سازی کے عمل میں پاکستان پیپلز پارٹی کے ساتھ تعاون کرنا چاہیے، تاہم براہِ راست حکومتی ڈھانچے کا حصہ بننے یا وزارتیں لینے سے گریز کیا جائے۔
انہوں نے کہا کہ موجودہ سیاسی حالات میں ذمہ دارانہ اپوزیشن کا کردار ادا کرنا پارٹی کے لیے زیادہ مؤثر حکمتِ عملی ثابت ہو سکتا ہے، جبکہ عوامی مسائل کے حل اور جمہوری عمل کے استحکام کے لیے تعمیری تعاون جاری رکھا جانا چاہیے۔
سیاسی حلقوں کے مطابق خواجہ سعد رفیق کا یہ مؤقف گلگت بلتستان میں آئندہ سیاسی صف بندی اور حکومت سازی کے امکانات کے تناظر میں اہم قرار دیا جا رہا ہے۔