حسبان میڈیا - Hasban Media Logo
این ایف سی ایوارڈ صوبوں کا آئینی حق ہے Home / سیاست /

این ایف سی ایوارڈ صوبوں کا آئینی حق ہے

ایڈیٹر - 10/06/2026
این ایف سی ایوارڈ صوبوں کا آئینی حق ہے

بہت سے نکات پر اتفاق رائے ہے۔ این ایف سی ایوارڈ ایک خالصتاً ایک آئینی حق ہے صوبوں کا، اور جس میں اضافہ تو ہو سکتا ہے لیکن کمی نہیں کی جاسکتی۔ یہ صوبائی حق ہے جو پارلیمنٹ کے اتفاق رائے کے ساتھ تسلیم کیا گیا ہے اس پر کسی قسم کا کوئی ہم اس کے خلاف کوئی اقدام کو قبول نہیں کر سکتے تھے۔ ہم اس بات پر متفق ہیں کہ صوبائی حقوق، صوبائی خود مختاری یہ تمام صوبوں کو یقینی بنانا چاہیے اور ہر صوبے کے عوام اپنے وسائل کے خود مالک ہیں، کوئی وفاق یا وفاق کے کسی سطح کا کوئی طاقتور ادارہ وہ صوبے کے عوام کے وسائل پر قبضہ کر لیں، اس کو اپنے قبضے میں لینے اور صوبے کے عوام کو اس کے مفادات سے محروم کرنے کی اجازت نہیں دی جا سکتی۔ اس پر ہمارا اتفاق ہے اور میں توقع رکھتا ہوں کہ خیبر پختونخواہ کی صوبائی حکومت وہ صوبے کے اس حق کے لیے اپنا بھرپور آئینی کردار ادا کرے گی۔ *خیبرپختونخوا میں امن و امان کی مخدوش صورتحال* صوبے کا امن و امان کا مسئلہ ہے، اس میں کوئی شک نہیں ہے کہ ہمارے صوبے کے امن و امان کی صورتحال بہت ہی مخدوش ہے، خاص طور پر جنوبی اضلاع میں جیسے حکومتی رٹ تک ختم ہو گئی ہو اور عام آدمی وہ مسلح گروہوں کے رحم و کرم پر ہے، اس مسئلے کو کیسے حل کیا جائے؟ اس کے عوامل کا کیا جائزہ لیا جائے؟ تاکہ ان کے عوامل کا خاتمہ ہو اور ہم صوبے میں امن و قرار کے ساتھ زندگی گزار سکیں۔ *مدارس رجسٹریشن قانون کے نفاذ کا مطالبہ* ہم نے ان کے سامنے یہ بات بھی رکھی ہے کہ وفاق کی سطح پر دینی مدارس کے رجسٹریشن کا قانون پاس ہو چکا ہے، صوبے میں اس قانون کو من و عن اسمبلی سے پاس کرایا جائے اور اس پر عمل درآمد ہو جس طرح کے قانون کہتا ہے۔ *فاٹا انضمام کے باوجود مسائل برقرار* ہمارے جو قبائل ہیں جسے ہم فاٹا کے علاقے سے تعبیر کرتے ہیں، ہم نے فاٹا کو صوبے میں ضم کیا، لیکن عملاً اب تک وہ ضم نہیں ہو سکا ہے، ان کی مشکلات میں اضافہ ہوا ہے، مشکلات میں کمی نہیں ہوئی، ان کے جو واجبات تھے وہ شاید اب تک بھی ہم پورے نہیں کر سکے ہیں، 2017 میں یہ فاٹا مرج ہوا تھا، آج 2026 ہے اور اس کے باوجود وہاں کوئی نظام موجود نہیں ہے، وہاں جو قوموں کی ملکیتی زمینیں تھیں یا علاقے تھے یا پہاڑ تھے، صحرائے تھی، ابھی تک اس کو بندوبستی علاقے کے طور پر تقسیم نہیں کیا جا سکا ہے، نہ وہاں پٹواری جا سکتا ہے نہ وہاں قانون گو جا سکتا ہے، نہ وہاں تحصیل دار جا سکتا ہے۔ *قبائلی علاقوں میں اراضی اور معدنی وسائل کے حقوق* اور ہمارے بلوچستان ہو یا ہمارا خیبر پختونخواہ ہو اس کے پہاڑوں میں، صحراؤں میں جو معدنی ذخائر ہیں اس کو قبضے میں لیا جا رہا ہے، طاقتور قوتیں وہاں پر کھدائیاں کر رہی ہیں اور ہمارے صوبے کے غریب لوگوں کی ملکیت اس کو اپنے قبضے میں لے رہی ہے، ہم جانتے ہیں کہ ریاست وہ ان معدنی ذخائر کی حفاظت کے ذمہ دار ہے لیکن اس کا یہ معنی نہیں کہ وہ وہاں کے عوام اور عام آدمی، وہاں کے بچوں کے حقوق کو غصب کر لے اور ان کو محروم کر دیں۔ اس حوالے سے بھی ہماری سوچ ایک ہے اور ہم سمجھتے ہیں کہ اس کے لیے ہماری ایک مشترکہ حکمت عملی ہونی چاہیے تاکہ ہم اپنے غریب صوبوں کے غریب بچوں کے وسائل کو ان کے حق میں استعمال کر سکیں اور ان کے منافع ہم ان کو دلا سکیں۔ *گندم کی ترسیل پر پابندی آئین کی خلاف ورزی قرار* چیف منسٹر صاحب نے ذکر بھی کیا کہ پنجاب سے گندم کی جو ترسیل ہے اس پر پابندی لگائی گئی ہے اور وہ آئین کی خلاف ورزی ہے، کسی زمانے میں جب میاں شہباز شریف صاحب صوبے کے وزیراعلی تھے، تو یہ اس زمانے سے وطیرہ چلا ا رہا ہے، لیکن جب ہم ان سے شکایت کرتے تھے تو کہتے تھے کہ جی ہم تو اجازت دے دیں گے لیکن یہ گندم جب آپ کے صوبے میں جائے گا تو پھر افغانستان سمگل ہوگا، افغانستان سے سمگل ہوگا، ہم نے کہا کہ نہیں ہمارے لوگ پنجاب جاتے ہیں، مزدوری کرتے ہیں، کٹائی میں شریک ہوتے ہیں، برداشت میں شریک ہوتے ہیں، اپنی مزدوری لے کر واپس اتے ہیں، آپ کس طرح ان کی مزدوری جو ہے ان کے گھر تک انے میں رکاوٹ بن سکتے ہیں اور آج ہم کہتے ہیں ان کو، کہ آپ ہی نے تو سرحد بند کی ہوئی ہے جب افغانستان اور پاکستان کے درمیان سرحدی بند ہے تو پھر سمگلنگ کا کیا تصور ہو سکتا ہے؟ تو اس صورتحال میں بھی ہمارے صوبے کے عوام کے لیے گندم کی بندش جو ہے آئین کی بھی خلاف ورزی ہے، انسانی حقوق کی بھی خلاف ورزی ہے اور یہاں کے غریب لوگوں کے حق پر ڈاکہ ڈالنے کے مترادف ہے۔ *گلگت بلتستان انتخابات مسترد* اس کے علاوہ کل جی بی میں، گلگت بلتستان میں جو الیکشن ہوئے ہیں میں ابھی اس تفصیل میں تو نہیں جاؤں گا لیکن وہاں سے جو ہمیں انیشیل اطلاعات موصول ہوئی ہیں تو اس حوالے سے ہمارا اس پر اتفاق ہے کہ ہم جی بی الیکشن کو مسترد کرتے ہیں۔ امیر جےیوآئی مولانا فضل الرحمان